تیز رفتار پی سی آر ٹیسٹ اور وہ بھی ایک چپ پر

پی سی آر ٹیسٹ جو جینیاتی طور پر نہ صرف کورونا بلکہ بہت سے بیماریوں کا ٹیسٹ اور ڈی این اے شناخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس ضمن میں اب پورا پی سی آر ایک چپ پر منتقل کردیا گیا ہے۔

ریورس ٹرانسکرپشن پولمریز چین ری ایکشن (آرٹی پی سی آر) کی مدد سے کووڈ 19 کی شناخت میں بہت مدد ملی ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت مہنگے اور بھاری بھر کم آلات کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹیسٹ میں کم ازکم ایک گھنٹہ ضرور لگتا ہے۔ اب امریکن کیمیکل سوسائٹی کے جرنل میں اس تیز رفتار پی سی آر چپ کی روداد شائع ہوئی ہے۔ اس میں موجود پلازمو مائع کی بدولت صرف 8 منٹ میں نتیجہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح موجودہ اور مستقبل کی وباؤں کی شناخت میں یہ چپ انقلابی تبدیلیاں لاسکتی ہے۔

سائنسدانوں نے ڈاک ٹکٹ جتنی ایک چپ بنائی ہے جسے ’پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین چپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں پی سی آر ری ایکشن کے چھوٹے چھوٹے چیمبر (خانے) موجود ہیں۔ جیسے ہی چپ پر تجزیاتی نمونے کا ایک قطرہ ڈالا جاتا ہے ایک ویکیوم انہیں اندر کھینچ لیتا ہے۔ اس کے اندر شیشے کے باریک ستون ہیں اور ان میں سونے کے نینو ابھار ہیں تاکہ کسی قسم کا کوئی بلبلہ نہ بننے پائے جو نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

جب چپ کے نیچے سفید ایل ڈی جلائی جاتی ہے تو اس کی روشنی حرارت میں بدل جاتی ہے اور لائٹ بند ہوتے ہی وہ تیزی سے ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ ماہرین نے سارس کوو ٹو وائرس کے حامل جین کا ڈی این اے اس آلے پر رکھا تو ایل ای ڈی 40 مرتبہ بند آن اور آف ہوئی۔ اس طرح بہت گرم اور ٹھنڈک کے کئی چکر چلائے گئے تو صرف پانچ منٹ میں کووڈ 19 کو شناخت کرلیا گیا۔ سیمپل کو اندر رکھنے میں تین منٹ لگے۔ اس طرح چپ نے صرف 8 منٹ میں نتیجہ ظاہر کردیا جو 91 فیصد تک درست تھا۔ روایتی پی سی آر 98 فیصد تک درست ہوتے ہیں لیکن ان کے نتائج میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

اس انقلابی چپ سے نہ صرف مختلف امراض کی شناخت میں مدد ملے گی بلکہ اسے غریب اور دورافتادہ علاقوں میں بھی امراض کی تشخیص میں استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو