کسی کو جماہی لیتے دیکھ کر ہم بھی ایسا کیوں کرتے ہیں

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی / رائٹرز فوٹو
جمائی کیا ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں مگر ایک بات شرطیہ ضرور کہی جاسکتی ہے کہ اس کو دیکھنے بلکہ اس کے بارے میں پڑھ کر بھی آپ بھی منہ کھولنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے۔

یعنی جمائی ایسی تیزی سے ایک سے دوسرے میں پھیلتی ہے جس کی کوئی مثال موجود نہیں ۔

ویسے تو ابھی تک یہ بھی صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر ہم جمائی لیتے کیوں ہیں مگر اس کے بہت زیادہ متعدی ہونے کی وجوہات اس سے بھی زیادہ بڑا معمہ ہیں۔

مگر اب سائنسدانوں کو لگتا ہے کہ وہ اس راز کو سمجھنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

امریکا کی اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کے ارتقائی بائیولوجسٹ اینڈریو گیلپ نے ماضی میں ہونےوالے تحقیقی کام کی جانچ پڑتال کرکے ان کے نتائج کو ایک وضاحتی ماڈل میں بدل دیا۔

اس تحقیق کے مطابق جماہی ممکنہ طور پر جانداروں کے گروپس میں باہمی رویوں کو ہم آہنگ بنانے اور مشترکہ طور پر الرٹ ہونے کا ذریعہ ہے۔

جمائی کا کوئی واضح مقصد تو نظر نہیں آتا ، بس کئی بار جب لوگ تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو ہمارے جبڑوں کے مسلز حرکت میں آتے ہیں اور ہم لمبی سانس لیتے ہوئے ٹھنڈی اور صاف ہوا جسم میں داخل کردیتے ہیں۔

سائنسدانوں کے اس بارے میں مختلف خیالات ہیں جیسے یہ عمل خون کے درجہ حرارت کو معمول پر لاکر دماغ کو ٹھنڈا کرتا ہے یا کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے یا آکسیجن کی سطح بڑھاتا ہے۔

درحقیقت تحقیق میں تو بتایا گیا کہ انسانوں کو تو چھوڑیں ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے تمام جاندار جماہی لیتے ہیں اور ایک جگہ اگر کوئی انسان جماہی لے تو وہاں موجود جانور بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے کیونکہ انفرادی طور پر سستی کے شکار افراد چاق و چوبند ہوجاتے ہیں۔

مگر جماہی ایک سرگرمی سے نکل کر دوسری میں منتقل ہونے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے، یعنی طویل نیند کے بعد بیدار ہوئے ہوں یا طویل وقت تک کام کرکے آرام کرنے لگے ہوں، کسی تبدیلی کی توقع پر بھی ہم جماہی لیتے ہیں ۔

تازہ ہوا سے ‘دماغ کو ٹھنڈا’ کرنا کسی ممکنہ کام کے لیے تیار ہونے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران لوگوں کو جماہی لیتے ہوئے افراد کی ویڈیوز دکھا کر انہیں تصاویر دکھا کر خطرناک یا بے ضرر جانوروں منتخب کرنے کا کہا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ دیگر افراد کو جماہی لیتے دیکھ کر لوگوں کی شناخت کی صلاحیت فوری طور پر بہتر ہوگئی ۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے اینیمل بی ہیوئیر میں شائع ہوئے۔