پہلی مرتبہ انسانی جگر مشین میں درست کرکے مریض میں منتقل

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک عطیہ کردہ جگر کو مشین میں رکھ کر درست کرکے اسے کینسر کے مریض میں لگایا گیا ہے۔ فوٹو:بشکریہ زیورخ ہسپتال

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک عطیہ کردہ جگر کو مشین میں رکھ کر درست کرکے اسے کینسر کے مریض میں لگایا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ زیورخ ہسپتال

زیورخ: جرمن سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ انہوں نے عین انسانی جسم کے ماحول والی مشین میں پہلے انسانی جگر کو درست کیا اور اسے ایک مریض تک منتقل کیا ہے۔

اس کےعلاوہ انسانی جگر کو بدن سے باہر تین روز تک فعال رکھا گیا جو ایک اور کارنامہ ہے۔ یونیورسٹی آف زیورخ اور یونیورسٹی ہسپتال زیورخ کے سائنسدانوں نے مسلسل محنت سے عین انسانی جسم جیسی مشین بنائی ہے جس میں عطیہ کردہ جگر کو تین روز تک زندہ رکھا گیا۔

انسانی جسم کی مناسبت میں مشین کے اندر ایک پمپ لگایا گیا ہے جو دل کا متبادل ہے۔ اس کےعلاوہ آکسیجنیٹر بھی نصب کیا گیا ہے جو پھپھڑوں کا کام کرتے ہوئے پورے نظام کو آکسیجن فراہم کرتاہے۔ اس کے اندر ڈائلائسس مشین لگی ہے جنہیں ہم مصنوعی گردے کہیں گے۔

جگر کا ورکشاپ

مریض کے لیے عطیہ کردہ جگر کی کیفیت بہت بری تھی جسے مریض میں منتقل کرنا ممکن نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے پیچیدہ افعال بڑھانے کے لیے اسے ایک پرفیوژن مشین میں رکھا گیا۔ مشینی میں ضروری مائعات سے اور بنیادی اجزا بھی شامل تھے۔ جگر جیسے اہم عضو کو اینٹی بایوٹک اور ہارمون تھراپی سے گزارا گیا۔ اس کے بعد کچھ ٹشوز (بافتوں) کی آزمائش بھی کی گئی۔

عام حالات میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اسے سے قبل جگر کو صرف 12 گھنٹے ہی محفوظ کیا جاسکتا تھا تاہم پرفیوژن مشین میں یہ مدت تین روز تک بڑھائی گئی اور عطیہ کردہ جگر کی گویا حیاتیاتی مرمت کرکے اسے پیوندکاری کے قابل بنایا گیا۔

اس سال مئی کے وسط میں درست کردہ جگر کینسر کے ایک مریض کو لگایا گیا اور اب مریض ہسپتال سے فارغ ہوکر پرسکون زندگی گزار رہا ہے۔