پانی کی قلت ایک بڑا چیلنج

عالمی درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ساتھ آبی وسائل سے بھرپور استفادہ اور پانی کے استعمال میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو : فائل

عالمی درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ساتھ آبی وسائل سے بھرپور استفادہ اور پانی کے استعمال میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان کے ڈیمز میں پانی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق ڈیمز میں جتنا پانی آرہا ہے ، وہ تقریباً سارا ملکی ضروریات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

ارسا کے مطابق اس وقت پانی کی قلت چالیس سے پچاس فی صد ہے جس کو صوبوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستان اور بھارت آبی تنازعات پر بات چیت نئی دہلی میں ہوگی ، دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے پانچ رکنی پاکستانی وفد بھارت گیا ہے ۔

مذاکرات میں آنیوالے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگی اطلاع پر بات ہوگی اور رپورٹ پر دستخط ہوں گے ۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے دریائے چناب پر بنائے جانے والے ہائیڈرو پاور کے تین بڑے منصوبوں پر اعتراض ہے۔ بھارت نے کیرو ہائیڈرو پاور منصوبہ پر کام شروع کیا ہے ۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے زرعی شعبہ کو سنگین خطرات درپیش ہیں اور پاکستان میں 80 فیصد رقبہ پانی کی قلت سے متاثر ہے۔ آبی ذخائر نہ ہونے اور دریاؤں میں صنعتی اور شہروں کا آلودہ پانی شامل ہونے کی وجہ سے آبی حیات کو شدید نقصان کے علاوہ زرعی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔

بلاشبہ ملک بھر میں پانی کے ذخائر میں کمی کے پیچھے ہماری حکومتوں کی عاقبت نا اندیشانہ پالیسیاں کارفرما ہیں ، اگر پانی کے مسئلے کا ادراک کرتے ہوئے وقتی اور طویل المدتی حل تلاش کر لیے جاتے تو آج ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ عفریت کی شکل اختیار نہ کرتا۔ ملک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب بارشیں یا تو بہت کم ہوتی ہیں یا پھر بہت زیادہ بارشوں سے سیلاب آ جاتے ہیں۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پاکستان آنیوالے دریاؤں پر سیکڑوں چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر لیے اور اس پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ بھارتی سپریم کورٹ سے پاکستان آنے والے دریاؤں کا رخ موڑنے کا بھی فیصلہ لے لیا۔ اسی تناظر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان کو پانی کی ایک ایک بوند سے محروم کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں اور اس وقت ہم آبی قلت کے بحران کے دہانے تک آپہنچے ہیں۔

اس بحران میں بھارتی سازشوں کے علاوہ ہماری اپنی بے تدبیری کا بھی عمل دخل ہے کہ جس سے پانی کی قلت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ صوبوں کے مابین دریاؤں کے پانی کو تقسیم کرنے والے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ارسا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے ، پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ 29ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گرتا ہے جب کہ دنیا بھر میں اوسطاً یہ شرح 8.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30 دن کی ہے۔ دنیا بھر میں دستیاب پانی کا 40 فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے پاکستان دستیاب پانی کا محض 10 فیصد ذخیرہ کرتا ہے۔ ہر سال ضایع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔ ہم بھارت کی آبی جارحیت کا شکار ہوچکے ہیں۔ بھارت جب چاہتا ہے ، ہمارے حصے کا پانی روک لیتا ہے جب چاہتا ہے زائد پانی بغیر اطلاع کے چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیلاب آجاتا ہے ۔

پاکستان میں پانی ذخیرے کرنے کے لیے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا میں بھی مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔ تربیلا ڈیم میں یومیہ پانچ لاکھ ٹن مٹی پانی کے ساتھ آتی ہے، اگر اسی طرح تربیلا میں مٹی آتی رہی تو 30 سال کے بعد تربیلا میں پانی ذخیرے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی۔

ماحولیاتی اْمور کی نگرانی کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں جہاں سے پانی آتا ہے وہاں درختوں کی کٹائی اور شدید بارشوں کی وجہ سے اچانک سیلاب سے ڈیمز میں پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کا تناسب بڑھ جاتا ہے، مٹی بھر جانے سے تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 9.6 ملین ایکٹر فٹ سے کم ہو کر اب 6 ملین ایکٹر فٹ رہ گئی ہے۔ ارسا کے مطابق بھاشا ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف تربیلا ڈیم کی میعاد بڑھ جائے گی بلکہ 8 ملین ایکٹر فٹ پانی بھی ذخیرہ ہو گا۔

پاکستان زیر زمین پانی استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں کی 60 سے 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ ضروریات زندگی کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتی ہے، تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ اور موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں سالانہ کمی کی وجہ سے پانی کا یہ ذخیرہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ ماہرین آبپاشی اور زراعت کے مطابق پاکستان کے گنجان آباد اور زرعی پیداوار کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کو بھی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

خدشہ یہ ہے کہ شہر لاہور میں پینے کا صاف پانی محض اگلے دس برس میں ختم ہو سکتا ہے۔ زیر زمین پانی لاہور کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔ واسا نے سیکڑوں ٹیوب ویل لگا رکھے ہیں جو روزانہ پینے کا پانی نکال رہے ہیں، جو کہ زیرزمین پانی کی کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں پانی کی روانی میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے اور نکاسی کے پانی کی صاف پانی میں شمولیت سے زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

زمین کے نیچے موجود پانی کا ذخیرہ جسے ایکوی فائیر بھی کہتے ہیں دراصل ایک پیالے کی مانند ہے۔ ہم جتنا پانی اس پیالے سے نکالتے ہیں، اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ اتنا ہی پانی اس میں واپس بھی جائے لیکن لاہور میں ایسا نہیں ہو رہا۔ گو کہ لاہور میں زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ محدود نہیں ہے یعنی اس میں پانی مختلف جگہ سے بھی آتا رہتا ہے مگر اس کے باوجود یہاں پانی کی سطح 100 فٹ سے نیچے چلی گئی ہے اور آلودگی کی وجہ سے یہ پانی پینے کے قابل نہیں رہا ہے۔

کئی مقامات پر لاہور میں 600 سے 700 فٹ تک بورنگ کی جا رہی ہے تب جا کر صاف پانی ملتا ہے، جس قدر کھدائی بڑھائی جائے گی اتنا زیادہ پانی میں آرسینک یعنی سنکھیا ملنے کا خطرہ ہے۔

زیر زمین پانی کے ذخیرے کو بحال کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ دریائے راوی تھا، مگر اس میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پانی بتدریج کم ہوا ہے۔ اس کے علاوہ تین بڑے نکاسی کے ڈرین دریا میں گرتے ہیں جن کے باعث پانی میں ہر قسم کی ٹھوس اور مایہ آلودگی شامل ہوتی ہے جو گھروں اور صنعتوں سے نکلتی ہے۔ جب یہ پانی زیر زمین جاتا ہے تو صاف پانی کی اوپری سطح کو آلودہ کرتا ہے۔

اس طرح وہ پینے کے قابل نہیں رہتا۔ دوسری جانب کراچی میں پانی کے معیار کا مسئلہ اس لیے زیادہ گمبھیر ہے کہ یہاں طرح طرح کے مسائل مو جود ہیں، اس کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور مسائل سے نمٹنے کے لیے طویل المیعاد اور ٹھوس منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ان حالات میں نہ صرف کراچی میں سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے ڈی سیلی نیشن پلانٹ نصب کرنے کی ضرورت ہے ، بلکہ سمندر کنارے آباد سندھ اور بلوچستان کے ساحلی شہروں اور قصبوں میں بھی ڈی سیلی نیشن پلانٹ نصب کرکے پانی کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے، تقریباً ایک دہائی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے شعبے میں بہت ترقی ہوئی ہے۔

اس شعبے میں سب سے آگے اسپین ہے ، جہاں کئی عشروں سے سمندری پانی سے نمک کو الگ کیا جا رہا ہے یا پھر سنگاپور ، جو میٹھے پانی کے ضمن میں ہمسایہ ملک، ملائیشیا پر انحصار کم کرنے کا خواہاں ہے۔ اسرائیل میں بھی ایسے کئی مراکز قائم کیے گئے ہیں، مزید اچھی خبر یہ ہے کہ اب ایسے بعض پلانٹس شمسی اور ہوائی توانائی سے حاصل کی گئی بجلی سے چلانے کے کامیاب تجربات ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب اس طریقے پر عمل کر کے میٹھا پانی حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے بعد اسرائیل بھی پانی کی بچت کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

پانی سے متعلق بیماریاں جدید دور میں بھی لاکھوں انسانوں کی اموات کا سبب بن سکتی ہیں، یہ آج کے دور کا ہولناک المیہ ہے پاکستان میں پانچ برس سے کم عمر کے کئی ہزار بچے انتقال کر جاتے ہیں۔ ان اموات کی ایک بہت بڑی وجہ ڈائریا یا دست اور اسہال کی بیماری قرار دی جاتی ہے۔

ڈائریا کے پھیلنے کی وجوہ میں غیر محفوظ پینے کا پانی اور صحت اور صفائی کی نامناسب سہولتیں سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے شکار افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور برسات کی وجہ سے اس تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے۔پانی کے ذخائر کے لیے نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے لیکن ملک میں ڈیمز کے معاملے کو سیاست کی نذر کردیا گیا۔ پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ ساتھ آبی وسائل سے بھرپور استفادہ اور پانی کے استعمال میں احتیاط انتہائی ضروری ہے تاکہ آنے والے وقت میں آبی قلت اور زمین کے بنجر ہونے اور صحراؤں میں اضافہ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ قوم میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ پانی کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے، تاہم ہمیں آبی قلت اور زمینوں کو بنجر ہونے اور صحرا زدگی سے بچانے کے لیے پاکستان کو سرسبز بنانا ہوگا۔