منکی وائرس کو پھیلنے سے روکنا آسان ہے، عالمی ادارہ صحت

منکی پاکس کے کیسز اب تک 16 ممالک میں سامنے آچکے ہیں / فائل فوٹو
منکی پاکس کے کیسز اب تک 16 ممالک میں سامنے آچکے ہیں / فائل فوٹو

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ افریقا سے باہر منکی پاکس وائرس کو روکنا ممکن ہے۔

اس وقت یورپ، امریکا اور آسٹریلیا میں منکی پاکس کے 100 سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور اس تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر منکی پاکس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے۔

یہ وائرس وسطی اور مغربی افریقا کے دور دراز کے خطوں کے جانوروں میں عام ہوتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنگ ڈیزیز شعبے کی سربراہ ماریا وان کرکوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کی روک تھام ممکن ہے۔

انہوں نے یورپ اور شمالی امریکا میں منکی پاکس کے حالیہ کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک سے دوسرے فرد میں وائرس کو پھیلنے سے روکنا چاہتے ہیں اور یہ ایسے ممالک میں آسانی کیا جاسکتا ہے جہاں یہ وائرس پایا نہیں جاتا۔

اس وائرس کے کیسز افریقا سے باہر اب تک 16 ممالک میں سامنے آچکے ہیں۔

اگرچہ یہ افریقا سے باہر 50 برسوں میں سب سے زیادہ کیسز ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ منکی پاکس آسانی سے لوگوں میں نہیں پھیلتا اور اس کے خطرے کا موازنہ کورونا وائرس کی وبا سے نہیں کیا جاسکتا۔

ماریا وان نے مزید کہا کہ وائرس کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقلی متاثرہ فرد کی جلد کو چھونے سے ہوتا ہے اور اب بھی جن مریضوں میں اس کی تشخیص ہوئی ان میں سے اکثر میں بیماری کی شدت معمولی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک اور عہدیدار نے کہا کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں کہ منکی پاکس وائرس تبدیل ہوا ہے ۔

ڈبلیو ایچ او کے چیچک سیکرٹریٹ کی سربراہ روزمنڈ لیوئس نے کہا کہ اس گروپ کے وائرسز تبدیل نہیں ہوتے ۔

منکی پاکس کیا ہے؟

منکی پاکس دراصل ایک ایسا وائرس ہے جو بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ منکی پاکس، وائرس کے ’پاکس وائری ڈائے‘ (Poxviridae) فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس فیملی کو مزید 2 ذیلی خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 22 پرجاتیاں ہیں اور مجموعی طور پر اس فیملی میں وائرس کی 83 اقسام ہیں۔

اس فیملی سے تعلق رکھنے والے وائرس میں ’اسمال پاکس‘ یعنی چیچک بھی شامل ہے اور علامات میں قریب ترین ہونے کی وجہ سے منکی پاکس کو اس کا کزن بھی کہا جاتا ہے۔

یہ آیا کہاں سے ہے؟

منکی پاس کا نقطہ آغاز افریقا بتایا جاتا ہے۔ منکی پاکس کی دو اقسام دنیا میں موجود ہیں جن میں سے ایک قسم مغربی افریقا میں جبکہ دوسری وسطی افریقا میں کانگو طاس کے اطراف موجود ممالک میں پائی جاتی ہے۔

دنیا میں انسانوں میں منکی پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس 1970 میں افریقی ملک ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں ایک بچے میں سامنے آیا تھا۔

اس میں بندر کا کیا کردار ہے؟

منکی پاس کا نام سن کر اگر آپ کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس کے پھیلاؤ میں بندر کی شرارت بھی تو شامل ہے تو آپ کا اندازہ غلط ہے۔

دراصل انسانوں میں منکی پاکس کا کیس سامنے آنے سے سالوں پہلے 1958 میں ڈنمارک کی ایک تجربہ گاہ میں رکھے گئے دو بندروں کو یہ بیماری ہوگئی تھی جس کی وجہ سے اس کا نام بھی منکی پاکس پڑ گیا۔

یہ بات طے ہے کہ اس وائرس کا منبع بندر نہیں ہیں اور نہ ہی یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

بندر نہیں تو پھر کونسا جانور اس وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے؟

سائنس دان حتمی طور پر یہ پتہ نہیں چلا سکے ہیں کہ کون سا جانور منکی پاکس وائرس کا گڑھ ہے تاہم افریقی چوہوں کو اس کے پھیلاؤ کا اصل ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔اگر منکی پاکس کا حامل کوئی جانور کسی شخص کو کاٹ لے، پنچہ مار دے یا انسان اس کے فضلے و تھوک وغیرہ سے تعلق میں آجائے تو وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے اور پھر متاثرہ انسان دیگر انسانوں میں اس کے پھیلاؤ کا سسب بنتا ہے۔

اس وائرس کی منتقلی کی شرح کیا ہے؟

امریکی ریاست نیو جرسی کے محکمہ زراعت کی ویب سائٹ پرموجود اعداد و شمار کے مطابق ایک انسان سے دوسرے انسان میں منکی پاکس کی منتقلی کی شرح 3.3 فیصد سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ البتہ کانگو میں وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کی شرح 73 فیصد کے قریب ریکارڈ کی گئی۔

اگر کسی شخص میں منکی پاکس وائرس موجود ہے تو علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی وہ اس وائرس کو دوسرے انسان میں منتقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ عام طور پر متاثرہ شخص کو زیادہ سے زیادہ 21 روز تک دوسرے لوگوں سے میل جول نہیں رکھی چاہیے ورنہ وائرس منتقل ہوسکتاہے۔

متاثرہ شخص میں کیا علامات ظاہر ہوتی ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق منکی پاکس کی علامات بھی چیچک سے ملتی جلتی ہیں البتہ اس کی شدت چیچک سے کم ہوتی ہے۔

عام طور پر اس کی علامات ایک سے دو ہفتوں کے درمیان سامنے آتی ہیں۔متاثرہ شخص میں پہلے سر درد، بخار، سانس پھولنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر چیچک کی طرح جسم میں دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔مرض کی شدت کے اعتبار سے ان دانوں کے حجم میں فرق ہوسکتا ہے۔ ان دانوں میں پَس بھی موجود ہوتا ہے اور مریض کو بے چینی اور خارش بھی محسوس ہوسکتی ہے۔

کیا منکی پاکس جان لیوا ہے؟

مرض شدت اختیار کرجائے تو منکی پاکس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی جن دو اقسام کا ہم نے ذکر کیا تھا ان میں مغربی افریقی قسم کی شدت کانگو طاس کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مغربی افریقا میں پائے جانے والے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 3.6 فیصد ہے جبکہ کانگو طاس ریجن کے منکی پاکس وائرس میں شرح اموات 10.6 فیصد ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں کم شدت والے منکی پاکس وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

متاثرہ شخص میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص کیسے ہوگی؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی شخص میں منکی پاکس وائرس ہے یا نہیں اسے جانچنے کیلئے مؤثر ترین طریقہ پولی میریس چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ ہے۔ اس مقصد کیلئے متاثرہ شخص کے جسم میں ابھرے دانوں میں بھرے مواد کو بطور نمومہ استعمال کیا جاتا ہے۔

منکی پاکس کی کوئی ویکسین یا مؤثر دوا موجود ہے؟

WHO کے مطابق چیچک سے بچاؤ کی ویکسین عام طور پر منکی پاکس کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ویکسین (MVA-BN) بھی منکی پاکس سے بچاؤ میں معاون ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق Tecovirimat نامی دوا بھی منکی پاکس کو روکنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ چیچک اور منکی پاکس جیسی بیماریوں کیلئے منظور شدہ دوا ہے۔ البتہ ویکسین اور دوا بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہیں اور اگر منکی پاکس کا پھیلاؤ جاری رہا تو اس کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

بچے، بوڑھے اور حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے والے افراد کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔