شوگر کے مرض کا ایک اور بڑا نقصان سامنے آگیا

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / رائٹرز فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی / رائٹرز فوٹو

ذیابیطس ٹائپ 2 سے جسم کے مختلف حصوں کو متعدد پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے مگر اس کے باعث دماغ بھی جلد بڑھاپے کا شکار ہوسکتا ہے۔

یہ انکشاف ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

20 ہزار درمیانی عمر اور معمر افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال سے تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریض عموماً یادداشت اور سوچنے کی صلاحیتوں کے ٹیسٹوں میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

تحقیق کے دوران ایم آر آئی اسکینز سے سوچنے سے منسلک دماغی حصوں میں فرق کو بھی دیکھا گیا۔

یعنی صحت مند افراد کے مقابلے میں ذیابیطس کے مریضوں کے دماغی ٹشوز 26 فیصد زیادہ تیزی سے سکڑ جاتے ہیں۔

یہ تو پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی ٹشو سکڑ جاتے ہیں مگر نئی دریافت سے ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ عمل زیادہ تیز رفتار ہوتا ہے۔

نیویارک کے اسٹونی بروک یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کا دماغ صحت مند افراد کے مقابلے میں اوسطاً 10 سال زیادہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔

اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں ذیابیطس کو دماغی مسائل سے منسلک کیا گیا تھا۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کے نتیجے میں جسم ایک ہارمون انسولین کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرپاتا جو کہ جسمانی خلیات کو گلوکوز توانائی کے لیے استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح مسلسل بہت زیادہ رہتی ہے جس سے خون کی شریانوں اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس مرض کے شکار افراد میں سنجیدہ پیچیدگیوں جیسے امراض قلب، گردوں کے امراض اور فالج کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

مگر دماغ پر مرتب اثرات اس سے ہٹ کر ہیں۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ گلوکوز کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے اور اگر دماغی خلیات انسولین کو استعمال نہ کرسکیں تو وہ مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریض دماغی ٹیسٹوں میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے۔

ماہرین کے خیال میں ذیابیطس سے ان شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جو دماغ کو خون پہنچاتی ہیں جس سے دماغی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل ای لائف میں شائع ہوئے۔