ترکی نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرلیے

ترکی اور اسرائیل کے درمیان 2 سال قبل سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تاہم اب ایک بار پھر یہ تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

ترکی نے غزہ میں فلسطینیوں پر حملوں کے ردعمل میں 2018ء میں اسرائیل سے اپنا سفارتکار واپس بلا لیا تھا جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی اپنے سفیر کو واپس بلایا تھا۔

تاہم اب ترکی نے دو سال کے وقفے کے بعد اسرائیل کیلئے اپنا سفیر نامزد کر دیا اور صدر طیب اردوان نے 40 سالہ افق اولوتاس کو اسرائیل میں سفیر مقرر کیا ہے۔

افق اولوتاس تیز و ہوشیار، فلسطین کاز کے حامی اور ایران کے امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

40 سالہ اوفوک اولوتاش ترک وزارت خارجہ میں اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر کے چیئرمین اور ترکش تھنک ٹینک سیتا فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی ہیں جنہوں مشرق وسطیٰ سے متعلق متعدد پالیسی پیپرز تحریر کیے ہیں، اس کے علاوہ اوفوک اولوتاش فلسطینیوں کے حامی اور ایران سے تعلقات سے متعلق ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ 2018ء میں امریکا کی جانب سے سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج نے فائرنگ کرکے 68 فلسطینیوں کو شہید اور 3 ہزار کو زخمی کردیا تھا جس کے بعد ترکی نے اپنا سفیر فوری طور پر واپس بلاتے ہوئے اپنے ملک سے اسرائیلی سفارت کار کو چلے جانے کا حکم دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کا یہ فیصلہ نو منتخب امریکی انتظامیہ سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

تاہم اسرائیل نے اب تک جواب میں ترکی سفیر واپس بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران اب تک 4 عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش شامل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو