ترکی اور پاکستان کی سیاست

ترکی میں سیاستدانوں کی فوج سے نہیں بنتی تھی. لیکن طیب اردگان جیسے سیاستدان برسراقتدار آئے تو فوج، عدلیہ اور میڈیا کو بالآخر اپنی حدود کا پابند ہونے پہ مجبور کیا. عوام نے ہر ادارے کو اپنے اختیارات کی حدود میں رہنے کا پابند کرنے میں حکومت کا ساتھ دیا اور اسے انتقامی کاروائی یا اداروں کے خلاف محاذ آرائی یا غداری کا نام نہیں دیا. میڈیا کا کردار و پالیسی ملک کی بہتری کے لئے رہا نہ کہ برسر اقتدار جماعت کے خلاف محاذ آرائی. یہاں تک کہ ترک پارلیمان ریفرنڈم کے ذریعے پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام میں چلے گئے لیکن عدالت سے کوئی حکم امتناعی نہ آیا. نصف سے کچھ زیادہ اکثریتی عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے نتائج کو پورے ملک میں خوش دلی سے قبول کر لیا گیا اور اس سارے معاملے میں کسی طرح کی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور دھاندلی کا شبہ بھی نہ ہوا. ان اقدامات کے ذریعے وہ سیاسی استحکام کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہے ہیں.

پاکستان میں 1960 کے بعد بشمول ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف، شجاعت حسین، عمران خان وغیرہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہی اقتدار تک پہنچ سکے اور مخالف حکومت گرانے کے لئے بہت مرتبہ 1999 تک اور پھر 2014 میں استعمال بھی ہوئے. پھر اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھانے کی انفرادی کوششوں میں برسراقتدار جمہوری سیاسی جماعت کے ساتھ وہی سلوک ہوتا رہا جو ایک طاقتور نئے طاقت حاصل کرنے والے کے ساتھ کرتا ہے۔

ہمارا ملک عدم استحکام کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا. ورنہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی محاذ آرائی نہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بنتی رہے گی بلکہ مستقبل قریب میں ناقابل تلافی نقصان کا شدید اندیشہ منڈلانے لگا ہے اور مسلسل ایسی غلطیاں ملکوں کو صدیوں پیچھے لے جاتی ہیں.

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ نظام حکومت کو نظریہ پاکستان یعنی اسلام کے مطابق کئے بغیر تمام اداروں بشمول تمام اسمبلیوں کی تطہیر اور اختیارات کی حدود کا کام ناممکن ہے. یہ تمام پاکستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے اور اسلامی نظام حکومت کے نفاذ میں ہی ہماری کامیابی کا راز مضمر ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو