بین الافغان مذاکرات، طالبان کا افغانستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب کے آغاز پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پائیدار امن ممکن ہے، جبکہ طالبان نے افغانستان میں اسلامی نظام کا مطالبہ کیا ہے۔

دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے اسے تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ طالبان دہشتگرد عناصر کی میزبانی نہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کےدوران بلاشبہ چیلنجز آئیں گے تاہم فریقین امن کیلئے موقع سے فائدہ اٹھائیں، دیرپا امن ممکن ہے، افغان حکومت اور طالبان تشدد، کرپشن سے بچیں اور امن و خوشحالی کی جانب بڑھیں۔

طالبان کا کہنا تھا کہ وہ پرامن، مستحکم، آزاد افغانستان کیلئے پرعزم ہیں، مستقبل کے افغانستان میں اسلامی نظام حکومت ہونا چاہئے، مذاکرات میں مشکلات آسکتی ہیں تاہم اسے جاری رہنا چاہئے۔

افغان امن کمیٹی کےسربراہ عبداللہ عبداللہ نےملک کےتمام حصوں میں انسانی بنیادوں پر سیز فائر کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد بھی بین الاقوامی معاونت کی ضرورت ہوگی۔

عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ نسلوں کے مستقبل کی بقاء کیلئے متحد ملک کی ضرورت ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو