بیمار ہونے پر چمگادڑیں بھی آئسولیٹ ہوجاتی ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چمگادڑیں جب بیمار ہوتی ہیں تو وہ سماجی دوری اختیار کرلیتی ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب ماہرین نے متاثرہ افراد کو سماجی دوری اور قرنطینہ کا مشورہ دیا تو بعض افراد نے اس طریقہ کار پر انگلیاں بھی اٹھائیں اور اسے غیرفطری قرار دیا کہ کسی کو بیمار ہونے پر تنہا کردیا جائے۔

تاہم اب امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جُھنڈ میں رہنے والی چمگادڑیں بھی بیماری کی صورت میں سماجی دوری اختیار کرتی ہیں۔

امریکی اور جرمن ماہرین کی مشترکہ تحقیق کے دوران 31 ویمپائر چمگادڑوں (خون پینے والی چمگادڑ) پر تجربہ کیا اور انہیں جنگل سے پکڑ کر ان میں سے کچھ کو مدافعانہ نظام کو چیلنج کرنے والا انجیکشن دے کر ان کے مقام پر واپس چھوڑ دیا گیا۔

جدید ٹریکرز کے ذریعے چمگادڑوں کے مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی کہ بیمار ہونے والی چمگادڑوں نے بہت کم وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزارا اور ان سے دوری اختیار کرلی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چمگادڑوں کا یہ عمل ان کے جُھنڈ میں وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے پھیلا ہے تاہم یہ انسانوں میں کس طرح منتقل ہوا اس پر کوئی حتمی رائے سامنے نہیں آسکی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو