بھارت کی چینی سرحد پر اشتعال انگیزی ، دونوں ممالک پھر آمنے سامنے

چین نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر متنازعہ علاقے میں سرحد کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کی ہے۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی اہلکار غیر قانونی طور پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پینگیانگ تساؤ جھیل کے نزدیک شینپاؤ پہاڑی کے علاقے میں داخل ہوئے اور وہاں فائر بھی کیے۔

ترجمان چینی فوج کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحد پرا شتعال انگیزی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ واضح رہے کہ 45 برس میں پہلی بار اس خطے میں فائرنگ کی گئی ہے، ایک معاہدے کے تحت اس علاقے میں بھارت اور چین نے کسی قسم کا بارودی اسلحہ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کر رکھا ہے۔

چینی فوج کے ترجمان نے بھارت کو خبر دار کیا ہے کہ ایل اے سی کی خلاف ورزی کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا جائے اور فائرنگ کرنے والے اہل کاروں کو سزا دی جائے۔

رواں برس مئی سے لداخ میں چین بھارت کشیدگی جاری ہے جس کے دوران جون میں بھارت کے افسران اور جوانوں سمیت 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اگست میں بھارت نے ایل اے سی پر ہونے والی اشتعال انگیزی کا الزام چین پر عائد کیا تھا جب کہ چین نے سرحدی کشیدی کا ذمے دار بھارت کو قرار دیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو