بھارت کو کشمیر پر سلامتی کونسل اجلاس رکوانے پر منہ کی کھانی پڑی، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیر پر سلامتی کونسل اجلاس رکوانے پر منہ کی کھانی پڑی اور بھارت کے کشمیر پر موقف کی نفی ہوگئی۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل اجلاس سے متعلق بیان میں کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سیکورٹی کونسل میں ایک سال میں تیسری مرتبہ مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا ہو، بھارت نے بھرپور کوشش کی کہ یہ مباحثہ نہ ہو پائے مگر اسے ناکامی ہوئی۔

شاہ محمود نے کہا کہ میں نے سلامتی کونسل کے صدر کو بذریعہ خط مطلع کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے ، بھارت نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے، اس مسئلے کو فوری طور پر زیرِ بحث لایا جائے، میری اس درخواست کے 72 گھنٹوں کے اندر نہ صرف اسے ایجنڈے پر رکھا گیا بلکہ اس پر سیر حاصل بحث ہوئی جس میں پندرہ میں سے 14 رکن ممالک نے حصہ لیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 55 برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا اور 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی ہے ، ہندوستان جو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ دو طرفہ یا اندرونی مسئلہ ہے سلامتی کونسل اجلاس سے اس کی نفی ہوگئی اور بحث کے ایجنڈے نے واضح کردیا کہ یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے۔

شاہ محمود نے مزید کہا کہ ہم نے کشمیر کے مسئلے پر گفتگو کیلئے وزارت خارجہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مدعو کیا لیکن جے یو آئی ایف کا وفد نہ آیا، ہماری خواہش تھی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتے، مولانا فضل الرحمن تو خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں انہیں تو مسئلے کی نزاکت کا سب سے زیادہ علم تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو