بھارت میں کالی کے بعد’’سفید پھپھوندی‘‘کی وبا

بھارت میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو کالی کے بعد ’سفید پھپھوندی‘ نے نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

کورونا نے پوری دنیا میں تباہی کی نئی داستانیں رقم کی لیکن کورونا سے ہونے والی جس تباہی کا سامنا بھارت کر رہا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی، بھارت میں اس وائرس نےاپنی ہیئت تبدیلی کی جسے کووڈ-19 ’انڈین ویریئنٹ‘ کا نام دیا گیا، پھر شاد و نادر پائی جانے والی بیماری ’ کالی پھپھوندی‘ بھارتیوں خصوصا کوروناسے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو آنکھوں سے محروم کر رہی ہے، لیکن تباہی کا یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

بھارتی ریاست ناگ پور میں فنگس( پھپھوندی) کی ایک اور قسم ’ سفید پھپھوندی‘ (کینڈی ڈیاسس، کینڈائڈ کی نوع سے پیدا ہونے والی عفونتی بیماری) نے کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اپنے شکنجے میں کسنا شروع کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اگرچہ ابھی تک اس تعدیہ (انفیکشن) کے کیسز بہت کم ہیں، تاہم حقیقی اعداد و شماراس سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ یہ کنڈائڈ کی نوع سے پیدا ہونے والی چھوت کی جلدی بیماری ہے، جس میں متاثرہ جگہ پرشدید سوزش اور خارش ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض کے منہ، حلق، آنت اور جنسی اعضا کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ اگر اس بیماری کا فوری تدارک نہیں کیا گھیا تو آگے چل کر یہ بھی وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اس بارے میں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فنگس (سیاہ یا سفید) سے بچنے کا سب سے بہتر طریقہ کھانے میں شکر کا استعمال کم سے کم کرنا ہے ۔ کیوں کہ پھپھوندی کی یہ دونوں اقسام کم زور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ذیابیطیس کے مریض قوت مدافعت کم زور ہونے کی وجہ سے اس کا آسان شکار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسی نوع کی پھپھوندی میوکور مائیسیٹس ( کالی پھپھوندی) نے وسطی بھارت میں تباہی مچائی ہوئی ہے، اور اب کورونا سے جنگ جیتنے والے مریضوں میں سفید پھپھوندی نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

اس بارے میں ممتاز بھارتی اینڈو کرائنولوجسٹ ہیمانشو پاٹل کی کہنا ہے کہ اس تعدیہ (انفیکشن) میں ’’میوکور مائیسیٹس‘‘ قسم سے تعلق رکھنے والی پھپھوندیاں انسانی دماغ، پھیپھڑوں یا پھر ناک/ حلق میں جڑیں بنا لیتی ہیں اور بڑھنا شروع کردیتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو