بھارت میں غیر مجاز افراد سے یورینیم برآمد

بھارت میں اس پہلے بھی کئی بار غیر متعلقہ افراد سے یورینیم برآمد کیا جاچکا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔

پچھلے دنوں بھارتی ریاست مہاراشٹر میں غیر مجاز افراد سے سات کلو گرام سے زائد قدرتی یورینیم کی برآمدگی نے اس انتہائی حساس ریڈیو ایکٹو مواد پر ریاستی کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

بھارتی ریاست مہاشٹرا میں پانچ مئی کو دو افراد کے قبضے سے سات کلو سے زائد نیچرل یورینیم برآمد کی گئی، بھارتی بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر نے تصدیق کی کہ پکڑا جانے والا یورنیئم انتہائی ریڈیوایکٹو ہے۔

بھارت میں اجتماعی و انفرادی یورینیم چوری اور اسمگلنگ کے درجنوں واقعات ہو چکے جن پر امریکہ اور ایٹمی دہشت گردی سے بچاؤ کے ادارے سمیت کئی ممالک اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

2021ء میں ہی نیپالی پولیس نے 4 افراد کو گرفتار کیا تھا جن کے قبضے سے بھارت سے لائی گئی 2.5 کلوگرام یورینیم برآمد کی گئی تھی۔

سال 2018ء میں کولکتہ پولیس نے ایک کلوگرام یورینیم کے ساتھ پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

2016ء میں ممبئی کے “تھانے شہر” سے 9 کلو گرام یورینیم پولیس نے پکڑی تھی۔

2009ء میں ممبئی سے 5 کلوگرام یورینیم ضبط کی گئی تھی۔

2008ء کے ستمبر اور فروری میں بھارت نیپال کے سرحدی علاقوں سے چار اور تین کلو گرام یورینیم برآمد کی گئی تھی۔

دسمبر 2006ء میں تابکار مادوں سے بھرا ایک کنٹینر مشرقی بھارت کے ایک خفیہ پلانٹ سے چوری کیا گیا تھا جو کبھی نہیں مل سکا۔

2001ء میں مغربی بنگال سے پولیس نے تین افراد سے نصف کلو “سیمی پروسیسڈ” یورینیم برآمد کی تھی۔

جولائی 1998ء کے دوران سی بی آئی نے 8 کلوگرام یورینیم تامل ناڈو سے پکڑی تھی۔

جون 1998ء میں مغربی بنگال پولیس نے اپوزیشن کے ایک سیاستدان کو 100 کلو گرام یورینیم کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔

نومبر 1994ء میں میگھیالے پولیس نے چار سمگلرز سے 2.5 کلوگرام یورینیم برآمد کی تھی.

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پوری دنیا میں یورینیم اور دیگر تابکار مادوں کی چوری کے سب سے زیادہ واقعات بھارت ہی میں رونما ہوئے ہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل صرف ان واقعات کی ہے جہاں یہ چوری اور سمگلنگ نظروں میں آ گئی جبکہ اس سے کہیں زیادہ واقعات میں نہ تو چوری ہونے والا مواد ملا اور نہ ہی اس کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکا (ان واقعات بلکہ “وقوعات” کے متعلق بھارتی اداروں کی فائلیں بھری پڑی ہیں). یہ سب واقعات بھارتی نیوکلئیر سکیورٹی سسٹم کے قطعی غیر فعال ہونے کے ثبوت ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد ریڈیو ایکٹو مواد کو کسی بھی روایتی ہتھیار سے جوڑ کر دھماکہ کرسکتے ہیں، جسے ڈرٹی بم کا نام دیا گیا ہے۔

ڈرٹی بم دھماکے کے نتیجے میں اگرچہ نقصان ایٹم بم جتنا نہیں ہوگا، تاہم بم پھٹے کے مقام اور نزدیک علاقوں میں تابکاری اور طویل آلودگی کے امکانات ہوں گے۔

ڈرٹی بم میں استعمال ہونے والا تابکاری مواد بہت زیادہ خالص یورینیم نہیں ہوتا، بلکہ کسی بھی ریڈیو ایکٹو سورس سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ادوایات یا انڈسٹری میں زیر استعمال ہو۔

لو اور ہائی پاور نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والا اور 21 کروڑ بھارتی روپے مالیت کا سات کلو گرام سے زائد نیچرل یورینیم کا بھارتی حکومتی گرفت سے باہر ہوکر عام لوگوں کے ہاتھ لگنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور دیگر ممالک کی لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔

بڑی مارکیٹ اور چین کے خلاف استعمال کی ضرورت کے تحت مغربی ممالک اور اداروں نے تو عالمی امن کو درپیش اس خطرے کے متعلق اپنی آنکھیں بند کر ہی رکھی ہیں.

لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ پاکستان کے وہ اندرونی و بیرونی مخالفین کہاں سوئے ہیں جو پاکستانی جوہری ہتھیاروں کو لے کر ماتم کرتے آئے ہیں کہ یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ جنہیں کراچی کے قریب بجلی گھر تعمیر کرنے پر تو واویلا کرنا یاد رہتا ہے لیکن بھارتی نظام کی اس بد دیانتی/نااہلی پر ایک لفظ کہنے کی توفیق نہیں ہوتی۔

ایسے واقعات کسی بھی ملک میں ہوں، ان وارداتوں کے پس پشت بہت بڑے عہدوں والے افراد کا ہاتھ ہوتا ہے جو کہ بدعنوانی اور انسانیت سے دشمنی اور امن سے غداری کی بدترین مثال ہیں اور دنیا کو ایسے لوگوں سے پاک کیا جانا چاہئیے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو