بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر گرم

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔

لداخ کے علاقے گلوان میں 15 جون کو بھارت اور چین کی افواج کے درمیان جھڑپوں میں بھارتی فوج کے افسران سیت 20 فوجی مارے گئے تھے۔

گزشتہ تین ماہ سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

اب بھارت کی جانب سے چین کی پیپلز لبریشن آرمی پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے۔

بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ایل اے نے 29 اور 30 اگست کی شب ایل او اے سی پر اشتعال انگیز نقل و حرکت کی جسے روک دیا گیا۔
بھارت نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی خلاف ورزی کا الزام لگا دیا، چین نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چینی سرحدی فوج نے کبھی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کراس نہیں کی۔

بھارت نے کہا ہے کہ پی ایل اے نے29، 30 اگست کی شب اشتعال انگیز نقل و حرکت کی ،صورتحال پر قابو پانے کیلئے بریگیڈ کمانڈر سطح کی فلیگ میٹنگ چوشول پر ہو رہی ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چینی سرحدی فوجی ایل اے سی کی سختی سے پاسداری کرتے ہیں، دونوں ممالک کی سرحدی افواج علاقائی امور پر بات کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ لداخ کے علاقے گلوان میں 15 جون کو ہوئی بھارتی چینی فوجی جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے بریگیڈ کمانڈر سطح کی فلیگ میٹنگ چوشول پر ہو رہی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو