برطانیہ میں نیا فتور جنم لینے لگا، لاک ڈاؤن کے بعد مسلمانوں پر حملوں کا خطرہ۔۔۔ سرکاری رپورٹ سامنے آگئی

برطانیہ میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد مسلمانوں پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت روکنے کے حوالے سے کام کرنے والے سرکاری گروپ اے ایم ایچ ڈبلیو جی نے اپنی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں دائیں بازو کے انتہا پسند منظم انداز میں مسلمانوں پر کورونا وائرس پھیلانے کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔

شدت پسند پرانی ویڈیوز استعمال کرتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ مساجد اب بھی کھلی ہیں، جس کے بعد پولیس کو کئی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

بدزبانی پر مبنی ان آن لائن پوسٹس میں مساجد منہدم کرنے کو کورونا وائرس کا علاج قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیس بک، ٹوئٹر، ٹیلی گرام اور وٹس ایپ گروپس میں موجود پوسٹس کا جائزہ لینے کے بعد اس رپورٹ نے ان نظریات کی نشاندہی کی، جن میں دعویٰ ہے کہ مسلمان اور مساجد کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں۔

کوویڈ ۔19 بحران کو مسلمانوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کو وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ جعلی خبروں کا آن لائن پھیلانا اس انتہائی تشویشناک رجحان میں مدد فراہم کررہا ہے۔

ایک حالیہ واقعے میں ، ایک مسلمان عورت جس نے حجاب اور حفاظتی ماسک پہن رکھا تھا، ایک سپر مارکیٹ میں موجود ایک شخص نے اپنے ساتھی کہا “دیکھو ، ایک بم” کہتے ہوئے عورت کی طرف اشارہ کیا۔

ایک اور واقعے کی اطلاع میٹرو پولیٹن پولیس کو دی گئی، ایک مسلمان خاتون نے بتایا کہ ایک شخص نے اس کے منہ پر کھانسا اور کہا’مجھے کورونا ہے‘۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو