برطانوی وزیراعظم کو اپارٹمنٹ کی مرمت کے لیے فنڈنگ پر تحقیقات کا سامنا

لندن، برطانیہ کی الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم بورس جانسن کے اپارٹمنٹ کی تزئین و آرائش کے لیے مالی اعانت کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ 11 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے اوپر وزیراعظم بورس جانسن کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش میں ممکنہ فنڈنگ کے شبہات پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اتنا مواد ہے جس پر تفتیش کی جاسکتی ہے۔ یہ مواد رہائشی عمارت کی مرمت میں فنڈنگ، لین دین یا کمیشن جیسے معاملات کے ہیں۔ اگر ٹھوس شواہد مل گئے تو وزیراعظم بورس جانسن پر جرمانہ عائد یا معاملہ پولیس کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

اپارٹمنٹ کی مرمت اور تزئین و آرائش میں خرچ ہونے والی رقم سے متعلق پارلیمنٹ حزب اختلاف کے رہنما کیئر اسٹارمر کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بورس جانسن نے کہا تھا کہ یہ رقم میں نے خود ادا کی اور تمام سرکاری اصول و ضوابط کی تعمیل بھی کی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا تھا کہ وزیراعظم نے وبا کے دنوں میں جب مالی پریشانیاں عروج پر ہے، اپارٹمنٹ کی دیواروں میں لگانے کے لیے 840 پاؤنڈ فی رول والا مہنگا وال پیپر خریدا۔ وزیراعظم کو شاید کنزرویٹو پارٹی فنڈنگ کر رہی ہے جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔

بورس جانسن کو اپارٹمنٹ کی مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے 30 ہزار پاؤنڈ سالانہ الاؤنس ملتا ہے اور انہوں نے 2 لاکھ پاؤنڈز گھر میں لگائے جس کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ ایک قسم کا قرضہ لیکر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں آٹھ روز بعد بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں جب کہ ویلش اور اسکاٹش کے علاقائی اسمبلیوں کے انتخابات بھی سر پر ہیں ایسے میں وزیراعظم کو پہلے ہی کورونا بحران پر تنقید کا سامنا ہے اور اب یہ نیا پینڈورا کھل گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو