براڈشیٹ کے دعوے میں صداقت ہوتی تو لندن ہائیکورٹ اسے رد نہ کرتی، حسین نواز

نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا ہےکہ براڈ شیٹ کے دعوے میں صداقت ہوتی تو لندن ہائی کورٹ اسے رد نہ کرتی۔

برطانوی عدالت سے پاکستان کے خلاف 28 ملین ڈالر سے زائد کا مقدمہ جیتنے والی اثاثہ جات برآمدگی کی فرم براڈ شیٹ کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے حسین نواز کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کا لندن ہائی کورٹ جانا سازش تھی، جس طرح پاکستان میں بھی کی گئی تھیں۔

حسین نواز کا کہنا ہےکہ ہائی کورٹ نے معاملے کو پرکھ کر فیصلہ دیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور براڈ شیٹ تنازعے کا ایون فیلڈ فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں، لندن ہائی کورٹ سے ہمارے خلاف فیصلہ آجاتا تو تحریک انصاف کی حکومت نے واویلا مچا دینا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا، نیب نے ہمارے اثاثے تلاش کرتے ہوئے 6کروڑ ڈالرگنوا دیے، یہ رقم ایون فیلڈ کے فلیٹس کی مالیت سے بھی زائد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لندن ہائی کورٹ میں کیس ہارنے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے براڈ شیٹ فرم کو 4 ارب 58 کروڑ روپے ادا کیے تھے۔

اس حوالے سے گذشتہ روز براڈ شیٹ کے سربراہ کیو مساوی کا کہنا تھا کہ نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں، براڈ شیٹ کے عدالتی فیصلے نے انہیں بے گناہ ثابت نہیں کیا۔ ہمارے حق میں فیصلے کو نوازشریف غلط طور پر اپنی بیگناہی سے جوڑ رہے ہیں، اگر عمران خان چاہیں تو کرپٹ عناصر کے خلاف تحقیقات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی مدد کرسکتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو