بجلی کے نرخ برقرار رکھنے کیلیے چینی قرض ری شیڈول کیا جائیگا

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی و پٹرولیم تابش گوہر نے کہا ہے کہ بجلی کے فی یونٹ نرخ میں ڈیڑھ روپے اضافے کو روکنے کیلیے سی پیک توانائی منصوبوں کے 3ارب ڈالر چینی قرضے کو ری شیڈول کیا جائے گا۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ پاکستان نے 12چینی آئی پی پیز کو 3سال میں 3 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، حکومت پاکستان چین سے مذکورہ ادائیگی کو 10 سے 12 سال کیلئے ری شیڈول کرنے کی درخواست کرے گی، جس سے بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں ڈیڑھ روپے کا اضافہ نہیں کرنا پڑے گا۔

انھوں نے بتایاکہ اس تجویز کو پاکستان میں چین کے سفیر کے سامنے رکھا جا چکا ہے، اب اس کو دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح حکام زیر غورلائیں گے۔

تابش گوہر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوست ملک چین کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ آئی پی پیز کے نصف ادائیگی چینی پاور پراجیکٹس سے متعلقہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے محمد علی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں چین کے ساتھ آئی پی پیز معاہدوں پر ازسرنو مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی تاہم چین نے بند کمروں کے اجلاسوں میں ان معاہدوں کو دوبارہ طے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان کو جن پاور پراجیکٹس کی قرض ادائیگی کرنی ہے ان میں کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، سکی کناری پاور پراجیکٹ، پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ، ساہیوال پاور پلانٹ، حبکو پاور پلانٹ، اینگرو پاور جنریشن پراجیکٹ شامل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو