بجلی کی قیمت میں اضافہ

وفاقی حکومت نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ بھی بجلی کی قیمت میں 18 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا۔

پاور ڈویژن نے بجلی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق بجلی کا اوسط ٹیرف 13 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 13 روپے 53 پیسے فی یونٹ ہوگیا۔

بجلی کی قیمت میں اضافہ گزشتہ مالی سال کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں کیا گیا ہے جس کا نفاذ رواں سال یکم دسمبر سے کیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلے کا اطلاق ماہانہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر نہیں ہو گا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں ہونے والا 18 پیسے فی یونٹ اضافہ 10 ماہ تک جاری رہے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ماہانہ 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے ٹیرف میں 15 پیسے فی یونٹ اضافہ ہوا جبکہ 300 یونٹ سے زائد استعمال کرنے پر 3 پیسے فی یونٹ اضافی چارج ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق رواں ماہ کے بلوں سے ہوگا تاہم فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا.

نیپرا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو بجلی 1 روپیہ 52 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی، درخواست اکتوبر اور نومبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی۔ جس میں نومبر کیلئے بجلی کی قیمت میں 95 پیسے فی یونٹ اور اکتوبر کیلئے بجلی 57 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

نیپرا حکام کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا میں سماعت مکمل ہوگئی ہے اور اکتوبر اور نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 6 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 29 پیسے فی یونٹ اور نومبر کی فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں بجلی 77 پیسے مہنگی کی گئی ہے، اضافے کے بعد بجلی صارفین پر 8 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

نیپرا کے مطابق حکومت نے نومبر تا جون کی فیول پرائس ایڈ جسٹمٹس صارفین پر منتقل نہیں کیں، جب کہ نیپرا ان ایڈجسٹمنٹس کے حوالے سے فیصلہ جاری کرچکا ہے، ایڈجسٹمنٹس سے صارفین پر 17 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، تاہم ہوسکتا ہے حکومت ان ایڈجسٹمںٹ پر کوئی سبسڈی دے دے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو