بتایا جائے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے؟ شاہد خاقان عباسی

مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے بتایا جائے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے تاکہ میں بھی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کروں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا جو غدار اور انڈین ایجنٹ کہہ رہے تھے وہ سارے غائب ہیں، کہا گیا کہ مقدمہ درج ہونے کا وزیراعظم کوپتہ ہی نہیں تھا، وہ ناراض ہوئے ہیں پرچہ کٹنے پر، وزیراعظم کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے، وزیراعظم کو علم ہی نہیں کہ معیشت تباہ ہو گئی ہے، انہوں نے 2 سال میں اتنے قرضے لے لیے جو پچھلے 10 سال میں نہیں لیے گئے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ پہلے غداری کی سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے، اب کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے، پوچھنا چاہتا ہوں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے تاکہ میں بھی اپلائی کروں، وزیراعظم رہنے کے بعد میں بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دے دیں۔

ان کا کہنا تھا غداری کا لیبل تو آپ نے لگا دیا ہے لیکن کوئی وزیر عوام کی تکلیف یا مشکل کی بات نہیں کرتا، میرا چیلنج ہے کہ غداری کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلائیں، پاکستان کے عوام کو دکھائیں کون سے غدار ہیں۔

وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ شاہدرہ کا پرچہ عمران خان نے درج کرایا یہی حقیقت ہے، کابینہ کے اجلاس میں عوام کی تکلیف نہیں پرچوں کی بات ہوتی ہے، کھلا چیلنج ہے عمران خان سمیت ساری کابینہ اس پرچے کی مدعی بنے، کھلی عدالت میں یہ مقدمہ چلایا جائے تاکہ پتہ چلے مودی کی مدد کرنے والا کون ہے۔

سابق وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ میں کسی پر غداری کا الزام نہیں لگاتا نہ سرٹیفکیٹس بانٹتا ہوں، لیکن جو ملک کو نقصان پہنچاتا ہے غدار وہی ہوتا ہے، غدار وہ ہوتے ہیں جو کشمیر کا سودا کرتے ہیں، غدار وہ ہوتے ہیں جو سی پیک بند کرتے ہیں، غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹیں، عوام کے مسائل حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او نے نہ رات کی تاریکی دیکھی اور نہ کچھ اور، ایک شخص آیا اور اس نے مقدمہ درج کرا دیا، ایک پرچہ میں بھی درج کرانا چاہتا ہوں، ایک شخص جو ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ریٹائر ہوا ہے اس نے ٹی وی پر آکر کہا کہ اس کو وزیراعظم نے کہا پرچہ بناؤ، سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اس کو عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف پر آرٹیکل 6 کا پرچہ بناؤ، متعلقہ افسر نے وزیراعظم کو کہا کہ نیب موجود ہے اور وہ اچھا کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے کی بات سے ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم سارا دن اپوزیشن کو گرفتار کرانے کا سوچتے ہیں، عمران خان سمیت وزراء اس مقدمے کے مدعی بنیں اور گرفتار کرائیں، سینئر افسر جو بات کر رہا ہے اس پر کارروائی تو ہونی چاہیے۔

ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد سے کرائے کے ترجمان اب غائب ہیں، چار دن تک یہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے، اب نئی کہانی آئی ہے کہ پرچہ کس نے درج کیا، دو سابق وزرائے اعظم کو غدار قرار دیکر آپ کون سا مقدمہ دنیا کے سامنے لڑیں گے، ایسے پرچے پاکستان میں پہلے بھی بنے لیکن سابق وزرائے اعظم کو شامل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے عمل سے دنیا میں پاکستان کی بے عزتی ہو رہی ہے، ہم سیاست کرنے اور اقتدار کے لیے نہیں، عوام کے مسائل کی وجہ سے نکلے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا پی ڈی ایم کا بیانیہ ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے، عوام کے ووٹ کی امانت میں کوئی خیانت نہ ہو، اپوزیشن اپنا کردار ادا نہیں کرے گی تو کیا کرے گی؟ پی ڈی ایم بنی ہی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف علاج کروا کے واپس آئیں گے، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس عدالت اور عوام کے سامنے ہیں، حکومت نے انہیں علاج کی اجازت دی تھی جب مکمل ہو گا واپس آجائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو