ایک تصویر کی وجہ سے 10 شہری دہشتگرد قرار

قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ایک تصویر کی وجہ سے 10 کشمریوں کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں پشپورا کی ایک کرکٹ ٹیم نے 3 اگست کو قریبی گاؤں میں ایک میچ کھیلا تھا۔

فاتح ٹیم نے واپسی پر اپنے ایک کھلاڑی کی خواہش پر اس کے بھائی کی قبر پر حاضری دی اور واپس گھر لوٹ گئے۔

یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو رواں ماہ کے اوائل میں پولیس نے نئی دلی اور ضلع شوپیاں کے مختلف علاقوں سے تصویر میں نظر آنے والے تمام دس نوجوان گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا اور ان کے خلاف متنازع UAP ایکٹ کے تحت انسداد دہشت گردی کی دفعات میں مقدمہ درج کر لیا۔

پولیس کا موقف ہے کہ جس قبر پر حاضری دی گئی وہ حریت پسند کمانڈر سید روبان کی آخری آرام گاہ تھی، جو کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی سید تجمل عمران کا بڑا بھائی تھا۔

گرفتار 9 افراد مختلف کالجز کے طالبِ علم ہیں، دسواں کھلاڑی استاد ہے۔

اہلخانہ کا موقف ہے کہ ان کے بچے کبھی بھی کسی تحریک کا حصہ نہیں رہے۔

بیشتر افراد اپنے خاندانی باغات کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن ان کی گرفتاری نے سب گھرانوں کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔

ضلع شوپیاں کے سینئر وکیل حبیل اقبال نے UAP ایکٹ کو اذیت ناک قرار دیا اور کہا کہ نوجوانوں پر اس ایکٹ کو نافذ کرنا انتہائی نامناسب اور جابرانہ اقدام ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو