ایران کی سابق نائب صدر کو جاسوسی کے الزام میں ڈھائی سال قید کی سزا

ایران میں سابق نائب صدر اور موجودہ صدر حسن روحانی کی معاون خصوصی شھیندخت مولاوردی کو ملکی راز افشا کرنے کے الزام میں 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی ایک عدالت نے ملک کے اہم راز غیر ملکی طاقتوں کو فراہم کرنے اور ایران کی جمہوری حکومت کے خلاف مہم چلانے کے الزام میں 55 سالہ شھیندخت مولاوردی کو ان کی غیر موجودگی میں 2 سال اور 6 ماہ کی قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالتی ترجمان کی جانب سے صدر حسن روحانی کی معاون خصوصی شھیندخت مولاوردی پر عائد الزامات کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ سابق نائب صدر شھیندخت مولاوردی نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اگلے 20 دنوں میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے لیے کئی دہائیوں سے کام کرنے والی شھیندخت مولاوردی 2013ء سے 2017ء تک صدر حسن روحانی کے پہلے دور میں نائب صدر رہیں اوراب انہیں شہری حقوق سے متعلق صدر حسن روحانی نے مشیر نامزد کیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو