اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی کرنسی ڈکیتی

Money Heist, Scam of Century

آپ سب لوگ حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے اسکا نام ڈکیتی کیوں رکھا۔ تو چلئے آپ سب کو دنیا کی سب سے بڑی ڈکیتی کا سچ دیکھاتے ہیں۔

Satoshi Nakamoto سیتوشی ناکاموتو 5 اپریل 1975ء کو جاپان میں پیدا ہوا اور دنیا میں  Virtual/Digital Currency کو متعارف کروانے والا Pioneer ہے۔ جس نے 2007ء میں بٹ کوائن Bitcoin کا کوڈ لکھنا شروع کیا  اور 2009ء میں بٹ کوائن  کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

What is a Digital/Virtual Currency?

یہ ایک مخصوص الگوریدھم پر لکھا جانے والا کمپیوٹر کوڈ ہے۔ جو ایک Block Chain پر انحصار کرتا ہے۔ جب بھی بلاک چین بنائی جاتی تو اس میں بلاک کی تعداد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ جتنے بلاک رکھے جائیں گے وہی اس کے Coin کی تعداد ہو گی۔ اب سیتوشی ناکا موتو نے جب یہ کوڈ لکھا تو اس میں بلاک کی تعداد 21 ملین رکھی، یعنی کے 2 کروڑ 10 لاکھ بلاکس۔ اور یہی اس کے ٹوٹل Coins کی تعداد ہے۔ ان بٹ کوائن میں سے تقریبا ایک کروڑ تراسی لاکھ بٹ کوائن مارکیٹ میں دے دیئے گئے اور باقی ستائیس لاکھ بٹ کوائن سیتوشی ناکا موتو نے اپنے پاس ریزرو رکھ لئے۔ جو ابھی تک اس کی ذاتی ہولڈنگ میں پڑے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کو بنانے کے دو مقاصد اور بھی تھے پوری دنیا میں کرنسی کی تیز ترین ٹرانسفر اور دوسرا ہے خفیہ طریقہ سے کرنسی منتقل کرنا۔

چین نے اسی وجہ سے بٹ کوائن کو اپنے ملک میں بین کیا ہوا ہے کیونکہ انڈر انوائسنگ کی تمام رقوم کا لین دین بٹ کوائن کے ذریعے ہونے لگ گیا تھا۔

 سیتوشی ناکاموتو کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے ویسے دنیا کی ضرورت بدل رہی ہے اس لیے دنیا کو ایسی کرنسی کی ضرورت ہے یا مستقبل میں ضرورت ہو گی۔ اس کی اس سوچ کے مد نظر، اور بھی لوگوں نے مل کر نئی نئی بلاک چینز بنانی شورع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ۱۰۰ سے زیادہ ڈجیٹل کرنسی مارکیٹ میں آ گئیں۔ لوگوں کے لیئے یہ چیز بلکل نئی تھی۔ جب پہلی بار بغیر کسی ٹریڈ کے لوگوں کو بٹ کوائن متعارف کرویا گیا تو اس کو ایک ڈالر کا سواں حصہ بھی نہیں تھی۔ اکتوبر 2009 میں ایک بٹ کوائن $0.0009 کا تھا۔ جولائی 2010 میں قیمت $0.08 ہو گئی۔2013ء میں بلآخر  ڈیجیٹل کرنسی کو ٹریڈ کرنے کے لیے ایکسچینج بننا شروع ہو گئی۔ جس میں قابل ذکر  Poloniex, Bittrex, and Binace ہیں۔ 2013ء میں جب یہ باقاعدہ ٹریڈ میں آیا تو اس کی قیمت $13.50 تھی۔ جو اس سال زیادہ سے زیادہ $220 تک گئی اور پہلا کریش ہوا اور قیمت $70 پر واپس آ گئی۔ اس کے بعد یہ سالوں تک ٹریڈ ہوتا رہا اور لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا رہا۔ یہاں تک کے 2017ء آ گیا۔

جنوری 2017 ءمیں بٹ کوائن کی قیمت تھی، $800 اور یہ اس ٹائم بہت تیزی سے اوپر جا رہا تھا۔ مارچ میں یہ $1700 کا ہو گیا۔ جون میں یہ $3500 یہاں تک کے اکتوبر 2017ء میں اس کی قیمت $11000 ہو گئ۔ اب بات یہاں پر ایک سمجھنے والی ہے۔ یہ ایک کرنسی جس کا وجود نہیں ہے اور یہ جو ڈالر کے مقابل ٹریڈ ہو رہا تھا۔ جبکہ یہ کاغذی کرنسی تک نہ تھا۔ ایکسچینج میں بٹ کوائن کو ٹریڈ کرنے کہ لیے ایک اور ڈیجیٹل کرنسی USDT بنائی گئی۔ جو کہ ڈالر کی جگہ پر  ایکسچینج میں استعمال ہو رہا تھا۔

اب آ جاتا ہے کہ جب بٹ کوائن بھی ڈیجیٹل کرنسی اور USDT بھی ڈیجیٹل کرنسی تو اب Money کہاں سے نکالی جائے گی۔ یہ سمجھنے کیلئے پہلے آپ کو مجھے بین الاقوامی مارکیٹ کا بتانا پڑے گا۔

آپ نے آج تک ٹی وی پر ہی سنا ہے کہ آج بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت یہ ہے، پاونڈ، یورو، وغیرہ کی قیمت یہ ہے۔ لیکن شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ یہ بین الاقوامی مارکیٹ ہے کیا۔ کہاں پر ہے۔ کیسے چلتی ہے۔ تو ایک چھوٹا سا تعارف۔ فارکس اور کموڈیٹیز Forex & Commodities کو جس  ایکسچینج میں ٹریڈ کیا جاتا ہے اس کو شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج یعنی کہ Chicago Mercantile Exchange کہتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی ایکسچینج ہے جس میں دنیا کی تمام کرنسی اور کموڈیٹیز جیسے گولڈ، سلور، کروڈ، سویابین، گندم، چاول اور چینی وغیرہ اور بہت سی چیزیں ٹریڈکی جاتی ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑے سرمایہ دار اسی مارکیٹ میں ہیں۔ اور یہ وہ سفاک سرمایہ دار ہیں جن کو صرف اور صرف دولت سے مطلب ہے۔ جب بٹ کوائن بڑھ رہا تھا تو یہ سب لوگ اس کے مخالف تھے۔ لیکن جب ان کی مخالفت کے بعد بھی بڑھتا رہا تو سیتوشی ناکا موتو نے ان کو ساتھ ملانے کا سوچا۔ اور یہ کام بھی وہ کافی دیر سے کر رہا تھا کہ کوئی مفاہمت ان کے بیچ میں ہو جائے۔

نومبر 2017ء میں سیتوشی ناکاموتو شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج کے سرمایہ داروں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا اور ان سرمایہ داروں کی مدد سے SEC سے بٹ کوائن کو شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں ایڈ کرنے کی اجازت لے لی اور یہ خبر مارکیٹ میں عام ہو گئی  اور تاریخ دے دی گئی کہ 19 دسمبر 2017ء کو بٹ کوائن کو شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں رجسٹرڈ کر دیا جائے گا اور دنیا کو ٹریڈ کی اجازت دے دی جائے گی، صرف یہ ہونا تھا کہ پوری دنیا میں لوگوں کو اس بات کا یقین ہو گیا کے اب تو بٹ کوائن اور مہنگا ہو جائے گا کیونکہ شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج نے رجسٹرڈ کر دیا ہے۔ 18 دسمبر کو بٹ کوائن مارکیٹ میں $18000 کا ہو گیا۔ جب 19 دسمبر کو شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں جب پہلی بار ٹریڈ شروع ہوا تو یہ تقریبا $20,000 پر کھلا اور سیل شروع ہو گئی۔ جبکہ دیجیٹل مارکیٹ میں یہ $19000 تک گیا۔ شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں جو اس کرنسی کا ہائی ہے۔ وہ اس دن کے بعد کبھی نہیں ایا۔ اس دن کے بعد سے یہ کرنسی اج کے دن تک گری ہی گری ہے۔ جنوری 2018 یہ $11,000 پر آ گیا۔ اور 2020 میں یہ $3500 تک آ گیا۔ اج کل اس کی موجودہ قیمت $7000 کے پاس پاس ہے۔

اب آپ کو بتانا یہ تھا کہ شکاگو مرکنٹائل ایکسچینج میں $20,000 میں بکنے والی کرنسی، اس وقت $7000 کی ہے۔ یہ بیچ کا منافع جو سیتوشی ناکا موتو اور سرمایہ داروں نے کھیلا۔ اس کی قیمت $13000 ہے۔

مارکیٹ میں موجود بٹ کوائن تقریبا$23790000000 یہ قیمت بنتی ہے۔ یہ کسی ملک کی معیشت سے بھی بڑی قیمت ہے۔ اب یہ ایک ایسی ڈکیتی ہے، جس پر کوئی نہیں بول رہا اور نہ ہی بولے گا، کیونکہ اس کو بہت قانونی طریقے سے کھیلا گیا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ملک جب کوئی کرنسی بناتا ہے تو اس کے لیے گولڈ یا کسی اور کرنسی کو ریزرو رکھا جاتا ہے۔ بٹ کوائن کا ریزرو کیا ہے؟۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ یہ ایک دیجیٹل کھیل کھیلا گیا۔ لوگوں کے ساتھ، معیشت کے ساتھ، دنیا کی کرنسی کے ساتھ۔ جہاں گولڈ جیسی قیمتی چیز کبھی بیس ہزار ڈالر کی نہیں ہوئی وہاں یہ بیس ہزار کا ہو گیا۔ اس کو بنانے کا ایک مقصد اور بھی تھا کہ دنیا میں بلیک منی کو وائٹ کرنا۔ اور دنیا میں آسانی سے کہیں پر بھی منتقل کر دینا۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ

“کاغذی کرنسی کے بعد ڈیجیٹل کرنسی دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے”

تحریر و تحقیق : ماہ نور

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو