آر سی ای پی؛ چین کی قیادت میں دنیا کا سب سے بڑا تجارتی بلاک

آخر کار چین کی آٹھ سالہ کوششیں رنگ لے آئیں۔ چین سمیت بحرالکاہل کے پندرہ ایشیائی ممالک نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔

پندرہ ممالک کے مابین طے پانے والے دنیا کے سب سے بڑے تجارتی معاہدے کو آر سی ای پی (ریجنل کمپریہینسو اکنامک پارٹنر شپ) کا نام دیا گیا ہے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب 15 نومبر کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان کے ایک ورچوئل اجلاس کے بعد منعقد ہوئی۔

یاد رہے کہ علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے دنیا کا یہ سب سے بڑا تجارتی معاہدہ طے پانے میں 8 سال کاعرصہ لگا۔ گذشتہ 8 سال سے آر سی ای پی سے متعلق رکن ممالک کے مابین مذاکرات جاری تھے جس کے نتیجے میں مذکورہ معاہدہ طے پایا ہے۔

آر سی ای پی معاہدے میں چین، جاپان، نیوزی لینڈ جنوبی کوریا، آسٹریلیا کے علاوہ 10 جنوبی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ آزاد معیشت کا یہ نیا اتحاد امریکا کینیڈا اور میکسیکو کے اتحاد کے علاوہ یورپی یونین سے بھی بڑا تجارتی اتحاد ہے۔

آر سی ای پی کے اراکین ممالک عالمی آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہیں جب کہ ان کی کل پیداوار مجموعی عالمی پیداوار گا 29 فی صد ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس سے خطے کی 2.2 ارب آبادی مستفید ہو سکے گی۔

چینی حمایت یافتہ دنیا کے سب سے بڑے اس تجارتی معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے۔ بھارت ان مذاکرات کا حصہ تھا تاہم اس کی جانب سے گذشتہ سال علیحدگی اختیار کرلی گئی تھی۔ بھارت کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس معاہدے میں درج کم محصولات مقامی تاجروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

آر سی ای پی معاہدے پر دستخط اس گروپ کے لیے ایک اور دھچکا ہے، جس کو سابق امریکی صدر اوباما نے شروع کیا تھا۔ تاہم موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2016ء میں منصب سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ سے دست برداری کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں 12 ممالک شامل تھے اور اسے سابق امریکی صدر براک اوباما کی حمایت حاصل تھی اور وہ اس کے ذریعے چین کی خطے میں بڑھتی طاقت اور اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔

آر سی ای پی معاہدے سے پہلے بھی خطے کے کئی ممالک کے درمیان ٹیکس فری تجارت کے معاہدے موجود ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے سے حقیقی بنیاد پر کیا فرق پڑے گا؟ توقع کی جارہی ہے کہ اس معاہدے سے ٹیکسوں میں کمی لائی جائے گی۔ تجارتی ضوابط نرم کیے جائیں گے اور سپلائی چین میں بہتری پیدا ہوگی۔

ماہرین کو توقع ہے کہ یہ معاہدہ اگلے 20 سال میں بہت سی اشیا کی برآمد پر ٹیکس ختم کردے گا۔ اس معاہدے میں جملہ حقوق کے۔ حوالے سے ٹیلی کمیونیکیشن مالیاتی سروسز ای کامرس اور دیگر متعدد پیشہ ورانہ سروسز کے حوالے سے خصوصی شقیں موجود ہیں۔ اس معاہدے میں سب سے اہم اصول “رولز آف ریجن” ہیں۔ یعنی اس بات کا تعین کرنا کہ کوئی چیز کہاں کی بنی ہوئی ہے، ہوں گے۔

جن کاروباروں کی سپلائی چین یعنی اشیا کی رسد بہت سے ممالک پر محیط ہے ان پر فری ٹریڈ معاہدے کے باوجود ٹیکس لگ سکتا ہے، کیوںکہ ان کی اشیا کے جز کسی دوسرے ملک سے درآمد کیے گئے ہوں گے۔ مثال کے طور پراگر انڈونیشیا میں بنی ہوئی کسی چیز میں جاپان سے درآمدشدہ اجزا ہیں تو آسیان کی فری ٹریڈ زون میں اسے برآمدی ٹیکس کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آر سی ای پی کے تحت کسی بھی چیز کو بنانے کے لیے کسی اور رکن ملک سے منگوائے جانے والے اجزا کو برابر تصور کیا جائے گا۔ اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ کمپنیز اب اپنی اشیا بنانے کے لیے خطے کے ممالک سے ہی اجزا خریدنے کی کوشش کریں جس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

اس معاہدے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں کچھ ایسے ممالک جُڑ چکے ہیں جو کہ عام طور پر تجارت کے معاملے میں سفارتی تعلقات میں خرابی کے باعث مل کر کام نہیں کر سکتے۔ چین کے جاپان ویتنام، آسٹریلیا کے ساتھ سرحدی امور پر تنازعات ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ممالک اس تجارتی معاہدے میں شامل ہوکر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس معاہدے میں شریک راہنماؤں کو امید ہے اس کے باعث کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

آر سی ای پی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد چین کے وزیراعظم لی کیچیانگ کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی صورت حال کے دوران اس معاہدے پر 8 سال کے مذاکرات کے بعد دستخط ہونا امید کی ایک کرن ہے۔ چین کے وزیراعظم نے اس معاہدے کو کثیرالجہت سوچ اور آزاد معیشت کی فتح قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کو چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو خطے کے تجارتی قوانین کو بنانے کے لیے بہتر پوزیشن فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ بھارت نے گذشتہ سال اس معاہدے کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن اس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کا کہنا ہے بھارت کے لیے مستقبل میں اس تجارتی معاہدے کا حصہ بننے کا راستہ کھلا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے علیحدگی بھارت کو قلیل المدتی فائدہ تو دی سکتی ہے لیکن مستقبل میں بھارت کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے، کیوںکہ فری ٹریڈ ہی اس وقت تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

اس معاہدے سے مستقبل قریب میں تبدیل ہوتی عالمی سیاسی اور معاشی صورت حال بھی واضع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ طے پانا اس امر کی نشان دہی ہے کہ عالمی معیشت کا سینٹر آف گریویٹی اب یورپ سے ایشیا کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

معاہدے میں شامل بہت سے ممالک سے امریکا کے تجارتی تعلقات تھے لیکن امریکا نے ان ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیا ہوا تھا۔ اس معاہدے سے توقع کی جارہی ہے کہ اب مذکورہ ممالک خطے میں ہی تجارت کو ترجیح دیں گے۔ معاہدے میں شامل بعض ممالک کے چین کے ساتھ سمندری حدود پر تنازعات چل رہے ہیں اور وہ ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے امریکا کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان ممالک کی اس معاہدے میں شمولیت سے امریکا کی ان کوششوں کو نقصان پہنچے گا جو وہ خطے میں طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے سلسلے میں انجام دے رہا تھا۔

اس معاہدے کے ذریعے چین خطے میں اپنی معاشی بالا دستی قائم کرنے میں کام یاب ہو گیا ہے۔ گذشتہ سال امریکا ٹرانس پیسیفک معاہدے سے الگ ہوا تھا اس کا مقصد چین کے گرد ایک معاشی حصار قائم کرنا تھا۔ حالیہ کورونا وبا سے امریکا جس معاشی بحران کا شکار ہوا ہے اس کے پیش نظر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کا مستقبل قریب میں کسی تجارتی معاہدے میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ نومنتخب امریکی صدر کے لیے امریکا کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنا اور امریکا کو درپیش اندرونی مسائل سے نمٹنا پہلی ترجیح ہوگی۔

دنیا کے سب سے بڑے اس تجارتی معاہدے میں اگرچہ بھارت اور پاکستان شامل نہیں ہیں اور ان ممالک کے لیے بظاہر اس معاہدے میں کچھ نہیں ہے مگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور بھارت کے لیے اس معاہدے سے سیکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔ اس معاہدے میں شامل بعض ممالک کے آپس میں کچھ تنازعات موجود ہیں لیکن معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی کے پیش نظر وہ ممالک اس معاہدے میں شریک ہوچکے ہیں۔ ہم جنوبی ایشیا کے خطے کی بات کریں تو یہاں صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ہی سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت کے مواقع موجود ہیں۔

لیکن دونوں ممالک کے مابین سرحدی تنازعات کے باعث حکومتیں اپنے کروڑوں عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے سے قاصر ہیں۔ اقوام عالم نے اس حقیقت کا ادراک کرنا شروع کردیا ہے۔ معاشی طور پر طاقت ور اور خودکفیل اقوام ہی دنیا میں عسکری طور پر مستحکم اور طاقت ور ہوتی ہیں۔ معاشی طاقت کے بغیر عسکری طاقت کا حصول ممکن نہیں ہے۔

ادھر جنوبی ایشیا میں حالات یہ ہیں کہ چالیس برس پہلے خطے کے ممالک نے باہمی اقتصادی سماجی اور ثقافتی تعاون کے لیے سارک کے نام سے ایک علاقائی تعاون کی تنظیم قائم کی تھی۔ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ تنظیم خطے کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی کی معاشی حالت میں بہتری لانے اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات ہیں۔ آر سی ای پی معاہدے میں دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کے لیے یہ سبق موجود ہے کہ اقتصادی اور معاشی ترقی کے لیے باہمی تنازعات کو بالائے طاق رکھنا ضروری ہے۔

بہرحال آر سی ای پی معاہدے پر اس وقت دنیا بھر کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کووڈ سے متاثرہ عالمی معیشت میں جان ڈال سکتا ہے۔ معاہدے میں شامل ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا 30 فی صد ہے۔ جب خطے کی اقتصادی ترقی ہوگی تو لازماً اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اقتصادی ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اس معاہدے کے عالمی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی معیشت پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو