انجینئیر بننے کا خواب دیکھنے والا جوان، مجاہدین کا کمانڈر بنا، شہید ہوگیا

حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف، ریاض نائیکو بھارتی فوج سے مقابلے میں شہید ہو گئے۔ ایک معرکے میں مجاہدین کے ہاتھوں تین افسروں (کرنل، میجر، ایس او جی انچارج) اور متعدد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی، جس کے بعد بھارت پر جوابی کارروائی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔

گزشتہ رات ریاض نائیکو کی اپنے آبائی گاؤں آمد کی انٹیلی جنس پر بھارتی فوج نے ان کے گاؤں کا گھیراؤ کیا، صبح نو بجے گن فائٹ کا آغاز ہوا جو چار گھنٹے جاری رہا، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے بارود لگا کر انکے گھر کو تباہ کر دیا۔ جس میں ریاض نیکو کی شہادت ہو گئی، شجاعت و ہمت کا ایک باب مکمل ہوا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ گاؤں میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا۔ جس دوران مجاہدین سے جھڑپ ہوگئی۔ جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائیکو اور ان کے ساتھی عادل احمد شہید ہوگئے۔ خیال ہے کہ ریاض نائیکو کو 2016ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب المجاہدین کا چیف کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر کی شہادت کے بعد پوری وادی میں غم اور اشتعال کی لہر دوڑ گئی. جبکہ قابض انتظامیہ نے وادی میں کرفیو کو مزید سخت کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس بند کردی۔

بھارتی قابض فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں وحشیانہ کارروائیوں میں تیزی آگئی اور قابض فوج نے جعلی آپریشن کے نام پر 20 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

ریاض نائیکو کون تھے؟

ریاض نائیکو کا تعلق پلوامہ کے علاقے بیگ پورہ سے ہی تھا اور وہ ریاضی کے استاد تھے۔

وہ 2012ء میں غاصب بھارتی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد میں شامل ہوئے اور 2016ء میں حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر مقرر ہوئے۔

ریاض نائیکو بھارت کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل تھے جن کے سر کی قیمت مقرر کی گئی تھی۔

ریاض نیکو انجنیئر بننے کے خواہاں تھے، لیکن 2010ء میں کچھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، بھارت کے خلاف تاریخی پتھراؤ تحریک چلی اس میں ریاض نیکو دوستوں کے ساتھ گرفتار ہوگئے اور ٹارچر سیلوں میں ہونے والی مار نے انجینئر بننے کا خواب چکنا چور کر دیا، ریاض نیکو نے گن اٹھا کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا.

گزشتہ آٹھ سالوں سے بھارت کا مطلوب ترین شخص ریاض نیکو ہی تھا۔ کیونکہ چار سال پہلے کشمیر کے پوسٹر بوائے، برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب کو آپریشنلی سںنبھالا اور بھارتی فوج کیلئے درد سر بنے رہے۔

جس طرح برہان کے بعد سینکڑوں برہان کھڑے ہوئے، ایک ریاض نیکو کے بعد ہزاروں جوان انکی جگہ لیں گے۔ کشمیری جان چکے کہ آزادی کی منزل کا راستہ کیا ہے، یہ قربانیوں اور غیرت کا راستہ طویل ضرور ہے لیکن نتیجہ خیز ہوگا۔ ان شاء اللہ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو