انتخابی شکست کے خلاف ٹرمپ کے حامیوں کا سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج

صدر ٹرمپ کی انتخابی ناکامی کو ووٹوں کی چوری اور دھاندلی کا نتیجہ قرار دینے والے ان کے حامیوں نے امریکی سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کے حامی روجر اسٹون سے جڑے ’’اسٹاپ دی اسٹیل‘‘ (چوری بند کرو) کے تحت ہونے والی ریلیوں میں مظاہرین نے احتجاجی نعرے لگائے اور چرچ گروپس نے دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا۔

واشنگٹن میں سپریم کورٹ سمیت مختلف مقامات کے ساتھ ساتھ ریاست جارجیا، پنسلوینیا، مشیگن ، وسکونسن، نواڈا اور ایری زونا کے دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ یہ وہ تمام ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے ووٹوں کی گنتی پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

اب تک مرکزی اور ریاستی 50 عدالتوں کی جانب سے کوئی ایسا فیصلہ نہیں آیا جس سے بائیڈن کی انتخابی کام یابی کسی طرح بھی متاثر یا مشتبہ ہوتی ہو۔ جمعے کو امریکا کی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی جانب سے چار ریاستوں میں انتخابی نتائج کے خلاف دائر کی گئی درخواست مسترد کردی۔

سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں امریکا کے سابق آرمی جنرل مائیک فلین نے کہا کہ گزشتہ روز فیصلہ جو بھی تھا لیکن سب کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ فلین کا کہنا تھا کہ ہر شہری اپنی اپنی سطح پر ان انتخابی نتائج کے خلاف قانونی آواز اٹھائے۔

واضح رہے کہ فلین پر ایف بی آئی سے روسی سفیر سے ملاقات کے متعلق دو مرتبہ جھوٹ بولنا ثابت ہوچکا ہے اور رواں سال 24 نومبر کو ٹرمپ نے انہیں صدارتی معافی دی ہے۔

امریکا میں ایک جانب کورونا وائرس کی وبا اپنے عروج پر ہے جب کہ ٹرمپ کے حامی مختلف علاقوں میں پُر ہجوم احتجاج کررہے ہیں۔ ان مظاہروں میں شریک ہونے والے اکثر افراد نے ماسک نہیں پہنا ہوا اور نہ ہی وہ سماجی فاصلے کا خیال رکھ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان مظاہروں میں سفید فام تفاخر پسندوں سمیت سخت گییر مذہبی اور نسل پرست گروہ شریک ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مظاہرے میں شریک افراد ووٹ چوری کا الزام عائد کررہے ہیں اور اس کے خلاف نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ایک حامی کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے سپریم کورٹ، خفیہ ادارے ایف بی آئی، محکمہ انصاف اور سی آئی اے کے گٹھ جوڑ سے یہ انتخاب جیتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے تاحال انتخابات میں باقاعدہ طور پر اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے تاہم ان کے ڈیموکریٹ مقابل کی انتخابی فتح ہوچکی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شکست تسلیم کرنے کے بعد چوں کہ انتقال اقتدار کے لیے منصب سنبھالنے والی ٹیم کو امور ریاست تک باقاعدہ رسائی دینا پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ موجودہ کورونا بحران میں صدر بائیڈن کی مشکلات میں اضافے اور اپنے لیے کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنے کے لیے اس عمل کو مؤخر کررہے ہیں۔ نومنتخب صدر 20 جنوری 2021ء کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو