امریکا کی 4 ریاستوں میں صدارتی انتخاب کیلئے ‘ارلی ووٹنگ’ کا آغاز

امریکا میں 3 نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے ‘ارلی ووٹنگ’ کا آغاز ہوگیا ہے۔

3 نومبرکے صدارتی انتخاب کے لیے امریکا کی چار ریاستوں ورجینیا، منی سوٹا، ساؤتھ ڈیکوٹا اور وائیومنگ میں ‘ارلی ووٹنگ’ کا عمل شروع کیا گیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

چاروں ریاستوں میں لوگوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئی ہیں، تاہم اس موقع پر سماجی فاصلے کے ساتھ ماسک کی پابندی کا خیال بھی رکھا جارہا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کی جانب سے موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امیدوار ہیں جب کہ ان کے حریف امیدوار جوبائیڈن ہیں جنہیں ڈیموکریٹس نے صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ 3 نومبر کو ہوگی تاہم گذشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی لوگوں کی آسانی اور انتخابی عمل میں پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ‘ارلی ووٹنگ’ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف ریاستوں میں علیحدہ معیاد مقرر کی گئی ہے جیسا کہ ورجینیا میں 3 نومبر کو الیکشن سے تین روز قبل تک ووٹ کاسٹ کیا جاسکے گا۔

‘ارلی ووٹنگ’ ایسے لوگوں کو با آسانی ووٹ ڈالنے کا بھر پور موقع فراہم کرتا ہے جو انتخابات کے روز ووٹ کاسٹ نہ کرسکتے ہوں یا وہ طویل قطاروں سے بچنا چاہتے ہیں جب کہ اب کورونا وائرس کی صورت حال کے باعث اس کی اہمیت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کورونا وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور اسی سبب صدارتی انتخاب 2020ء میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم موجودہ امریکی صدر اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور وہ یہ تک کہہ چکے ہیں کہ اس عمل میں فراڈ کا خدشہ ہے اس لیے الیکشن کو ملتوی کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو