امریکا اور مغربی ممالک میں نسل پرستی کے واقعات پہ چینی مندوب کی کڑی تنقید

اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب جانگ جون نے کہا ہے کہ انسانی حقوق اور مساوات کے حوالے سے ڈربن ڈیکلریشن اور پروگرام آف ایکشن منظور ہوجانے کے تقریباً بیس سال بعد بھی امریکا اور مغربی ممالک میں نسل پرستی کے واقعات ہورہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 5 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کی عام بحث کے دوران چین، روس اور کیوبا سمیت 26 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے امریکا سمیت مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے یک طرفہ جبری اقدامات کو فوراً واپس لینے پر زور دیا اور ان ممالک کے نظام میں نسل پرستی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

جانگ جون نے کہا کہ یک طرفہ جبری اقدامات پر عملدرآمد یو این چارٹر اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس سے انسانی حقوق پر بدترین اثرات مرتب ہورہے ہیں جن سے متاثرہ ممالک کی معاشی و معاشرتی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود، بالخصوص خواتین، نوجوانوں، بچوں، عمر رسیدہ افراد اور معذور لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ادویہ اور علاج معالجے کے حصول میں دشواریوں سے بھی لوگوں کے حقوق سنگین طور پر متاثر ہورہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ڈربن ڈیکلریشن اور پروگرام آف ایکشن کی منظوری کو تقریباً بیس سال ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی امریکا میں جارج فلائیڈ اور یورپ میں ژاکب بلیک جیسے واقعات رونما ہورہے ہیں۔

کمزور گروپ بدستور نسل پرستی اور پولیس تشدد سے متاثر ہورہے ہیں، حتی کہ کچھ افراد ہلاک بھی ہو رہے ہیں۔

وبا کے دوران کچھ ممالک میں اقلیتی قومیتوں خاص کر افریقی نسل کے افراد کی شرح اموات نسبتاً بلند رہی ہے۔ انہوں نے بعض ممالک میں تارکین وطن کے حراستی مراکز میں تارکین وطن کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار بھی کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو