امارات اسرائیل امن معاہدہ کرانے پر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام کیلئے نامزد

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کیلئے نامزد کردیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نوبیل امن انعام کیلئے ناروے کے رکن پارلیمنٹ کرسچیئن ٹائیبرنگ جیڈی نے تجویز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال سے نوبیل انعام کے دیگر امیدواروں کے مقابلے میں ڈونلڈ ترمپ نے امن کے قیام کے لیے بہت زیادہ کام کیا ہے‘۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 15 ستمبر کو ہوگی جس کی میزبانی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

سال 2020ء کے نوبیل امن انعام کیلئے اب تک 318 شخصیات کو نامزد کیا جاچکا ہے، جن میں سے مشاورت کے بعد حتمی ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔

ٹائیبرنگ جیڈی نے نوبیل کمیٹی کو لکھے گئے خط میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے امن معاہدے اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ’جیسا کہ امید کی جارہی ہے کہ دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی امارات کے نقش قدم پر چلیں گے، یہ معاہدہ ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے جو اس خطے میں تعاون اور خوشحالی کا باب کھولے گا‘۔

خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 2018 میں بھی ٹائیبرنگ جیڈی نے ہی ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جانب ان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نوبیل امن انعام کیلئے پیش کیا تھا تاہم وہ جیت نہیں سکے تھے۔

نارویجین رکن پارلیمنٹ ٹائیبرنگ جیڈی نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی نہیں ہیں لیکن ماضی میں امن کے لیے ٹرمپ سے کم کام کرنے والے لوگ بھی انعام جیت چکے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2009ء میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کو عہدہ سنبھالنے کے صرف 9 ماہ بعد ہی نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا جس پر کافی تنقید بھی ہوئی تھی، ان ناقدین میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل تھے۔

مختلف شعبوں میں نوبیل انعام جیتنے والوں کا اعلان اکتوبر میں کیا جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو