اماراتی شہزادی نے ایک بار پھر متعصب بھارتیوں کوآئینہ دکھا دیا، انٹرویو میں کھری کھری سنادی۔۔۔ تفصیلات جانئے

متحدہ عرب میں مقیم چند بھارتی ہندوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں شرمناک پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، تاہم اماراتی حکومت کی جانب سے ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے کر ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اور انہیں سزا سُنا کر ڈی پورٹ بھی کیا جا رہا ہے۔

اماراتی شہزادی ہِند القاسمی نے امارات میں مقیم ایک بھارتی شہری سوربھ اُپادھیائے کو اسلام مخالف پوسٹ لگانے پر سخت جواب دیا تھا کہ ”تمہیں امارات سے باہر نکال دیا جائے گا“۔

ہند القاسمی نے یہ بھی کہا تھا کہ امارات میں مقیم بھارتی کوئی احسان نہیں کرتے، انہیں ان کے کام کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر شہزادی ہند القاسمی کی جانب سے اپنے ایک آن لائن انٹرویو میں اسلام مخالف پوسٹ اور ویڈیوز لگانے والے چند متعصب بھارتیوں کو خوب رگڑا دیا گیا ہے۔

ایک ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شارجہ کی شہزادی کا کہنا تھا کہ میں تبلیغی جماعت یا بھارتی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتی مگر اس شخص (سوربھ اُپادھیائے) نے میرے مذہب پر حملہ کیا، میرے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کی، میری روایات پر اُنگلی اُٹھائی تو میں خاموش نہ رہ سکی۔

مجھے اس بھارتی شخص کی متعصبانہ تنقید سے بہت حیرت ہوئی، کیونکہ ہمارے ملک میں ہندوستانی بہت پُرانے عرصے سے مقیم ہیں۔ تاہم وہ ایسے نہیں ہیں جیسا اس شخص (سوربھ) نے ظاہر کیا ہے۔ اس شخص نے میرے دین کی تضحیک کی ہے جو قطعاً برداشت نہیں کی جاسکتی. اس لیے میں نے جواب دینا ضروری سمجھا ہے۔ جو کچھ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف کہا گیا اس سے مجھے شدید تکلیف ہوئی۔

کسی بھی شخص کو دوسرے کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔میں مہاتما گاندھی کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں۔ ان کا پیغام بھی مذہبی رواداری اور برداشت کا ہے۔ یقینا امارات کی ترقی میں بھارتیوں کا بھی اہم کردار ہے۔ لیکن اس مطلب یہ نہیں کہ آپ اس ملک کو گالی دیں جس نے آپ کو روزگار دیا ہے۔

شہزادی ہند القاسمی نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ میں ہندوستانیوں کے ساتھ بڑی ہوئی ہوں، انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

یہ لوگ بہت سادہ اور امن پسند ہیں مگر اس ملک سے تعلق رکھنے والے جن چند افراد کی جانب سے نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے، انہیں بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔

امارات میں بسنے والے تمام بھارتی محفوظ ہیں۔ ہم صرف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان نفرت انگیز رویوں کی وجہ سے ہی آگے چل کر قتلِ عام کی نوبت آ جاتی ہے۔ عام طور پر لوگ پہلے زبان سے نفرت ظاہر کرتے ہیں اور پھر کسی دن اس نفرت کے زیر اثر ہاتھ بھی اُٹھا لیتے ہیں۔

ہمارے مُلک میں تمام مذاہب اور ممالک کے لوگ امن و سلامتی کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں مگر غیر مسلموں کے مذہبی عقائد کا بھی احترام کرتے ہیں۔ غیر مسلموں کو بھی ہمارے جذبات کا خیال رکھنا ہو گا۔ہم نفرت پر مبنی رویوں کو پروان چڑھتا برداشت نہیں کر سکتے۔ مذہبی منافرت اور تعصب کو امارات میں قطعاً پنپنے نہیں دیا جائے گا۔

امارات میں مسلمان، ہندو، کرسچن، سکھ اور دیگر بہت سے مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ یہاں سب کو امن و آشتی اور رواداری کے ساتھ رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے نفرت آمیز تقاریر اور گفتگو بھی امارات میں ممنوع ہے۔

میں بھارت کے اندرونی معاملات پر کوئی بات نہیں کروں گی لیکن دنیا بھر میں جو اسلامو فوبیا پھیل رہا ہے اس کے خلاف بات کرنا ضروری ہے۔ صرف اسلام نہیں کسی بھی مذہب کو نشانہ بنایا جانا سراسر غلط ہے۔ ہمارے مُلک میں کسی عیسائی یا ہندو کو امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا اور نہ ہی کسی اور ملک سے آئے مسلمان کواس کے مذہب کی وجہ سے خصوصی طور پر نوازا جاتا ہے۔

ہمارے لیے تمام لوگ برابر ہیں اور ان کو ریاست کی جانب سے برابر حقوق حاصل ہیں۔ غیر مسلم انتہا پسند افرا د کو بھی اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا ورنہ ہم اپنی ریاستوں میں امن قائم کی خاطر کسی بڑے کاروباری شخص کے خلاف کارروائی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل شہزادی ہِند نے بھارتی شہری اُپادھیائے کی شرمناک پوسٹ پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کمنٹ کیا تھا ”اگرچہ امارات کا شاہی خاندان بھارتیوں کو اپنا دوست تصور کرتا ہے، مگر اُپادھیائے جیسے لوگوں کے تعصب اور نفرت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا”۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو