افراد کا لاپتا ہونا ناقابل قبول ہے

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ افراد کا لاپتہ ہونا ناقابل قبول ہے۔

ایس ای سی پی کے اعلیٰ افسر ساجد گوندل کی بازیابی پر شیریں مزاری نے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساجد گوندل کے معاملے پر آئی جی اور وزارت داخلہ کو سخت احکامات دیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے جرم سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں جب کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی واضح کیا تھا کہ افراد کا لاپتا ہونا ناقابل قبول ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ایس ایس سی پی کے افسر ساجد گوندل اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔

عدالت کی جانب سے ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے متعلقہ حکام کو احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی معاملے کا نوٹس لیا گیا تھا اور پھر گزشتہ روز ساجد گوندل بازیاب ہو کر بحفاظت گھر بھی پہنچ گئے.

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے اغوا کے معاملے پر 3 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کمیٹی میں شامل ہیں۔ کمیٹی وزیرا‏عظم کو تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو ساجد گوندل کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے اس مقام کا دورہ کیا جہاں سے مبینہ طور پر ساجد گوندل کو اغوا کیا گیا اور جہاں سے ان کی کار لاوارث کھڑی ملی تھی۔

ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر ساجد گوندل کے کیس میں ایس ای سی پی کے کئی ملازمین کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل چند روز قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاپتا ہوگئے تھے۔

ان کی گاڑی زرعی تحقیقاتی مرکز شہزاد ٹاؤن کے قریب کھڑی ملی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو