اظہار محبت رسول ﷺ کو رواجات کی نذر کرنے کی بجائے خالص عمل کی ضرورت ہے۔ امیر تنظیم الاخوان پاکستان

اسلامی معاشرہ اس وقت انحطاط کا شکار ہے ہم نے اُن باتوں کو جو کہ فروعی اختلاف ہیں، جن میں کسی ایک پر عمل ہو جائے تو درست ہے ہم اسے اختلاف اور جھگڑوں کی صورت میں لے آئے ہیں۔ حالانکہ اظہار محبت رسول ﷺ تو بندہ مومن کو یہ درس دیتا ہے کہ اپنے بھائی کے لیے اپنی جان نچھاور کر دی جائے۔ جب ہم رواجات کو فروغ دیں گے اور لادینی ہو گی تو پھر معاشرے میں بدنظمی ہو گی۔

اسلام ایسا دین ہے جو کہ بندہ مومن کی سونے جاگنے اور زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی کرتا ہے کہ وہ کیا کرے کن اعمال سے بچے اور یاد رکھیں اللہ کریم ہمارے مالک ہیں اور وہ بہتر جانتے ہیں کہ انسان کے لیے کیا چیز بہتر ہے.

آج ہم نے فرائض کو چھوڑ رکھا ہے حلال حرام کی تمیز ہم سے اُٹھتی جا رہی ہے اخلاقیات میں ہم پستی کا شکار ہیں ان سب مسائل کا حل اس بات میں مضمر ہے کہ ہم ایمان کو مضبوط کریں ہر عمل کو دین اسلام کے مطابق کریں تو پھر بات اپنی ذات سے نکل جائے گی۔ ایمان وہ دولت ہے جو زندگی میں ٹھہراؤ اور سکھ عطا فرماتا ہے۔

ملک کے تمام ادارے اور اس کے افراد ہم میں سے ہیں ہمارے ہر خاندان کے لوگ ملک کے لیے اپنی جانوں کے نزرانے پیش کر رہے ہیں۔ اس لیے اس کے تحفظ کے لیے ہم سب یک جان ہیں۔ اپنے کردار کی اصلاح کرتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی کوشش کریں نتائج اللہ کریم پر چھوڑ دیں اللہ کریم ہر ایک کے عمل کو قبول فرمائیں۔ ہر حکم کو سنتے وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے رکھیں اور اظہار محبت رسول ﷺ کو ماہ و سال اور مخصوص دنوں میں مقید کرنے کی بجائے اس کا اظہار سال کے ہر لمحے میں اپنی ہر سانس میں ہونا چاہیے۔

امیر عبدالقدیر اعوان

امیر تنظیم الاخوان پاکستان

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو