اسپرین فضائی آلودگی سے بھی بچاتی ہے، تحقیق

ایک حیرت انگیز مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ سے ضدِ سوزش ادویہ مثلاً اسپرین کھانے والے بوڑھے افراد فضائی آلودگی کے جز وقتی منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا مطالعہ ہے جو ایک ہزار سفید فام بزرگوں پر کیا گیا ہے لیکن اس کے نتائج بہت حیران کن ہیں۔ امریکا میں بوسٹن کے علاقے کے باسیوں میں یہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی میں موجود کاربن اور دیگر خطرناک ذرات سانس لینے میں دقت پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ذرات دماغ پراثرانداز ہوکر اکتسابی اور ذہنی صلاحیتوں مثلاً یادداشت وغیرہ کو متاثر کرتے ہیں۔

اگرچہ سائنس داں اسپرین اور دماغی مثبت اثرات کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق دریافت نہیں کرسکے تاہم مطالعے میں شامل جن افراد نے اندرونی سوزش (انفلیمیشن) دور کرنے والی غیر ایسٹرائیڈ ادویہ (این ایس اے آئی ڈی) استعمال کیں انہوں نے دیگر کے مقابلے میں یادداشت، ارتکازِ توجہ اور ہدایت پر عمل کرنے کے تمام ٹیسٹ میں غیرمعمولی بہتری دکھائی۔

اپنی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے بھرپور ماحول میں رہنے والے بالخصوص بزرگوں میں اکتسابی صلاحیت پر جزوقتی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسپرین اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دماغی سوزش اور جلن میں کمی ہوجائے تو اس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔

دوسری جانب سائنسی لحاظ سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ آلودہ ہوا کے ذرات اگر مستقل موجود رہیں تو وہ دماغ کو نقصان پہنچاتےہیں۔ اس تحقیق سے وابستہ پروفیسر اینڈریا بیکریلی کہتی ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ بزرگ ازخود اینٹی انفلیمٹری دوائیں کھانا شروع کردیں بلکہ وہ اپنے معالجین کے مشوروں پر ہی عمل کریں۔ دریں اثنا انہوں نے اس ضمن میں مزید تحقیق پر بھی زور دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو