اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے 50 ارب سے زائد روپے ڈوب گئے

خام تیل کی عالمی قیمت میں کمی اور غیر ملکیوں کی فروخت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں اتارچڑھاؤ کے بعد دوبارہ مندی رونماہوئی جس سے انڈیکس کی 42200 پوائنٹس کی سطح بھی گرگئی، مندی کے سبب 68 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے 50ارب 16کروڑ 37 لاکھ 22 ہزار 138 روپےڈوب گئے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ریٹیل انویسٹرز کی خریداری سرگرمیوں کی وجہ سے کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 234 پوائنٹس کی تیزی بھی ہوئی لیکن عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں فروخت کی شدت بڑھنے سے مقامی مارکیٹ میں سرمائے کا انخلا کیاگیا جس سے کاروباری دورانیے میں رونماہونے والی تیزی ایک موقع پر 283 پوائنٹس کی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

اختتامی اوقات میں نچلی قیمتوں پر ہونے والی خریداری سرگرمیوں کی وجہ سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 310 اشاریہ 56 پوائنٹس کی کمی سے 41985 اشاریہ 19 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

کے ایس ای 30 انڈیکس 159 اشاریہ 08 پوائنٹس کی کمی سے 17839 عشاریہ 64، کے ایم آئی 30 انڈیکس 307 اشاریہ 44 پوائنٹس کی کمی سے 67729 اشاریہ 13 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 108 اشاریہ 79 پوائنٹس کی کمی سے 21064 اشاریہ 50 پوائنٹس پر بند ہوا۔

کاروباری حجم پیر کی نسبت 18 عشاریہ 08 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 88 کروڑ 43 لاکھ 70 ہزار 174 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 431 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 120 کے بھاؤ میں اضافہ 293 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو