اسرائیل کو القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی تلاش

اسرائیل کو بڑے سرپرائز دینے والے حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی تلاش ہے جبکہ ان پر 2 دفعہ حملے کیے گئے۔

اسرائیلی اخبار یروشلم کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل بڑا سرپرائز دینے والے حماس رہنما کے مسلسل پیچھے ہیں اور اس وقت محمد الضیف اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے القسام بریگیڈ کے کمانڈر محمد الضیف کو دو دفعہ نشانہ بنانے کی کوشش کی اور جنوبی غزہ میں کیے گئے دونوں حملوں میں محمد الضیف محفوظ رہے۔

القسام بریگیڈ کے کمانڈر 25 سال سے اسرائیل کو مطلوب ہیں تاہم ہر بار وہ اسرائیلی حملوں میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے جواب میں حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی شہروں پر 3 ہزار سے زائد راکٹ فائر کیے ہیں جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب حماس حملوں سے پہلی بار اسرائیل کا بڑا تجارتی اور شپنگ نقصان ہوا، اسرائیلی پورٹس کیلئے وار رسک پریمیم نافذ کردیا گیا۔

اسرائیلی پورٹ جانے والے جہاز 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر اضافی دیں گے، 7 دن سے زائد اسرائیلی پورٹ پر رہنے کی صورت میں رقم دگنی ہوگی، جہاز پر لدے سامان سے وار رسک پریمیم میں الگ اضافہ ہوگا۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ بارہ کلومیٹر طویل مبینہ سرنگوں پر 110 بم گرائے گئے۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ آج ہی غزہ حملوں میں قابل ذکر کمی دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ پر دوبارہ قبضہ خارج از امکان نہیں ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو نے 70 سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترجیح ہے کہ حملے روک کر معاملہ حل ہو جائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی انوکھی منطق اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو