اسرائیلی ظلم کیخلاف آواز اٹھانے والی دو سپر ماڈل امریکی بہنوں پر اسرائیلیوں کی تنقید

مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ پر اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں دو امریکی بہنیں بھی شامل ہیں۔ جنہیں انسانیت کا ساتھ دینے کی پاداش میں یہود مخالف ٹھہرایا گیا، لیکن یہ دونوں بہنیں اپنے موقف پر ڈٹی ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس سے فلسطینیوں کو بےدخل کرنے اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف آواز بلند کرنے میں دو فلسطینی نژاد امریکی بہنیں دنیا کے سامنے آئیں۔

دونوں سپر ماڈل بہنیں جیلینا حدید اور ازابیلا حدید ہیں۔ جنہیں دنیا جی جی حدید اور بیلا حدید کے نام سے دنیا جانتی ہے۔ یہ دونوں نیویارک میں فلسطینیوں کی حمایت میں ریلی میں شریک ہوئیں

سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اسرائیلی حملوں کو تنقید کانشانہ بنایا، اور اسرائیل کو تعصبی قراردیا۔ اسرائیل مخالف موقف اپنانے پر بیلا حدید کو یہودی مخالف قرار دیا گیا۔

اسرائیلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے الزامات لگائے گئے کہ بیلا حدید یہودیوں کو سمندر میں پھینکنے کے حق میں ہیں۔

بیلا حدید نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہودی اور اسرائیلی ریاست کی مخالفت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ وہ یہودی مخالف نہیں بلکہ صیہونی ریاست اور حکومت کے خلاف ہیں۔

تاہم ان دونوں بہنوں کے خلاف پروپگینڈہ ختم نہ ہوا، کچھ روز پہلے نیو یارک ٹائمز جیسے موقر اخبار میں پورے صفحے کا اشتہار شائع کیا گیا، جس میں دونوں بہنوں اور گلوکارہ دعا لیپا کو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہی حرکت اسرائیل کے سابق وزیر دفاع نفتالی بینٹ نے بھی کی، لیکن بیلا حدید سے جواب مانگتے ایسے بوکھلائے کہ اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل کو نہ صرف غزہ میں دکھاتے ہوئے اسے حماس کا ہیڈ کوارٹر قرار دے دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو