اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی خواتین اور ضعیف انصاف کے بغیر سڑ رہے ہیں، ترکی بن فیصل

سعودی شہزادے ترکی بن فیصل نے اسرائیل کو ’مغربی نوآبادیاتی طاقت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے اور جسے چاہے قتل کردیا جاتا ہے۔

بحرین میں سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے سابق ڈائریکٹر انٹیلی جنس اور سابق سفیر شہزادے ترکی بن فیصل آل سعود نے اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خودمختار فلسطین کے قیام کے لیے عالمی معاہدے پر زور دیا۔

شہزادہ ترکی بن فیصل نے مزید کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو حراستی کیمپوں میں جھوٹے الزامات کے تحت انتہائی سخت قید میں رکھا ہوا ہے جہاں نوجوان، بوڑھے، خواتین اور بچے انصاف کے حصول کے بغیر برسوں سے سڑ رہے ہیں۔

سعودی شہزادے نے اسرائیل کو مغربی نوآبادیاتی طاقت قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ جو فلسطینی قید و صعوبت سے بچ جاتے ہیں ان کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور وہ لوگ جب چاہیں جس کو چاہیں قتل کردیتے ہیں۔

سعودی شہزادے ترکی بن فیصل 22 سال تک ڈائریکٹر انٹیلی جنس رہے جب کہ دو سال امریکا میں سعودی سفیر بھی رہے ہیں لیکن اس وقت ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تاہم انہیں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے انتہائی قریب سمجھاجاتا ہے۔

دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل سے تعلقات کی بحالی پر لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ولی عہد کی رضامندی سے ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو